کراچی ای-چالان سسٹم: ڈی آئی جی ٹریفک کا خصوصی انٹرویو

29

حال ہی میں ہمیں کراچی کے ڈی آئی جی ٹریفک، پیر محمد شاہ کے ساتھ گاڑی میں ایک آرام دہ سفر اور گفتگو کا موقع ملا۔ برسوں سے کراچی کی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنا کسی قانون سے عاری جنگل میں راستہ بنانے جیسا محسوس ہوتا رہا ہے، لیکن اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ خودکار الیکٹرانک چالان سسٹم  کے آنے سے شہر کا ٹریفک نظام اب ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

ہم نے وہ تمام سخت سوالات پوچھے جن کے جوابات ہر پاکستانی ڈرائیور جاننا چاہتا ہے: کیا سرکاری گاڑیاں قانون سے بالاتر ہیں؟ ای-چالان سے اکٹھا ہونے والا کروڑوں روپیہ آخر جا کہاں رہا ہے؟ اور اگر آپ کی امپورٹڈ گاڑی میں کمپنی کے ہی کالے شیشے لگے ہوں تو کیا ہوگا؟

کراچی کے ٹریفک نظام میں ہونے والی اس بڑی تبدیلی کے پیچھے چھپے حقائق کی مکمل تفصیلات درج ذیل ہیں:

کالے شیشوں اور فینسی نمبر پلیٹوں کے خلاف کریک ڈاؤن

بہت سے ڈرائیور اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ جیسے ہی کوئی نیا ٹریفک چیف آتا ہے، وہ لاکھوں موٹر سائیکل سواروں (جو بغیر شیشوں یا ہیلمٹ کے گھومتے ہیں) کو چھوڑ کر فوری طور پر کالے شیشوں اور فینسی نمبر پلیٹوں کے پیچھے کیوں پڑ جاتا ہے؟

ڈی آئی جی کے مطابق، اس کی وجہ قوانین پر عمل کرنے کا تناسب ہے۔ کار مالکان موٹر سائیکل سواروں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے قوانین پر عمل کرتے ہیں، اس لیے کاروں سے شروعات کرنا آسان ہوتا ہے۔ تاہم، اب یہ خودکار ڈیجیٹل سسٹم کسی میں فرق نہیں کرتا۔

“جب سے ہم نے ڈیجیٹل ای-ٹکٹنگ سسٹم شروع کیا ہے، ہر خلاف ورزی کرنے والا اس کی زد میں آ رہا ہے، چاہے وہ بائیک ہو، چھوٹی کار ہو یا کوئی لگژری ایس یو وی۔ بہت جلد ہم اس ڈیجیٹل سسٹم کے ساتھ سڑکوں پر ایک سخت مہم شروع کر رہے ہیں۔ اب موٹر سائیکل، رکشہ اور کار مالکان اگر بغیر اسٹینڈرڈ پلیٹ، سائیڈ مرر یا ہیلمٹ کے پائے گئے تو ان کے خلاف سخت آن گراؤنڈ کارروائی ہوگی۔”

“سرکاری گاڑیوں کو چھٹی” کا مِتھ ختم

پاکستان میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سبز (سرکاری) نمبر پلیٹ یا پولیس کی گاڑیوں کا کوئی چالان نہیں کر سکتا۔ لیکن ڈیجیٹل کیمروں کی کہانی بالکل مختلف ہے۔

چونکہ یہ پورا ڈیجیٹل نظام انسانی مداخلت کے بغیر کام کرتا ہے، اس لیے کیمرے کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ گاڑی کسی عام شہری کی ہے یا کسی بڑے افسر کی۔ ریکارڈ کے مطابق اب تک:

  • 6,000 سے زائد الیکٹرانک چالان سرکاری گاڑیوں کو بھیجے جا چکے ہیں۔

  • ان میں سے 700 سے زائد ای-چالان خود سندھ پولیس کی اپنی گاڑیوں کے ہوئے ہیں۔

  • سندھ سیکریٹریٹ، ہائی کورٹ اور یہاں تک کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے روٹ پر چلنے والی گاڑیوں کو بھی چالان بھیجے گئے ہیں۔

ای-چالان کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟

روزانہ ہزاروں چالان ہونے کی وجہ سے ایک خطیر رقم جمع ہو رہی ہے۔ ظاہر ہے ٹیکس دہندگان یہ پوچھتے ہیں کہ یہ پیسہ فوری طور پر سڑکوں کی مرمت اور نئے سگنلز پر کیوں نہیں لگ رہا؟

فی الحال یہ رقم براہِ راست ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کو نہیں ملتی، بلکہ سندھ حکومت کے مخصوص کھاتوں میں جاتی ہے۔ اس کی تقسیم کچھ یوں ہے:

حصہ  وصول کنندہ / مقصد 
70% براہِ راست سندھ حکومت کے اکاؤنٹ نمبر 1 میں جمع ہوتا ہے
15% ٹریفک ٹیکنالوجی اور کیمروں کے نظام کو بہتر بنانے پر لگتا ہے
15% ٹریفک پولیس کے اندرونی انعامات، افسران کی حوصلہ افزائی اور آپریشنز کے لیے

چونکہ اس ڈیجیٹل سسٹم کو شروع ہوئے ابھی لگ بھگ سات ماہ ہوئے ہیں، اس لیے نظام کو پوری طرح بدلنے میں وقت لگے گا۔ تاہم، ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ اب “کراچی ٹریفک مینجمنٹ کمپنی” قائم کر رہا ہے۔ اس کمپنی کے فعال ہوتے ہی چالان کا 100 فیصد پیسہ اسی کمپنی کو ملے گا، جو سمارٹ سگنلز لگانے، سڑکیں ٹھیک کرنے، پارکنگ کا نظام سنبھالنے اور تجاوزات کے خاتمے کی ذمہ دار ہوگی۔

45,000 گاڑیوں کی بلیک لسٹ: نمبر پلیٹ چھپانے والوں کا انجام

جب سے ڈیجیٹل کیمروں نے چالان کرنا شروع کیے ہیں، کچھ ڈرائیورز نے چالاکی دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اب یہ عام دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ نمبر پلیٹ کے کسی ایک ہندسے پر کپڑا لپیٹ دیتے ہیں، رنگ مٹا دیتے ہیں یا جعلی پلیٹ لگاتے ہیں۔ ٹریفک پولیس نے ایسے لوگوں کو سخت وارننگ دی ہے۔

“صرف 10 فیصد ڈرائیورز سسٹم کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہم ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہم نے ایک بلیک لسٹ ڈیٹا بیس تیار کیا ہے جس میں اب تک 45,000 گاڑیاں اور بائیکس شامل کی جا چکی ہیں۔ جیسے ہی ہمارا گراؤنڈ آپریشن پوری طرح شروع ہوگا، ان بلیک لسٹڈ گاڑیوں کو کرمنل پروسیجر کوڈ (CrPC) کے سیکشن 550 کے تحت ضبط کر کے تھانے بند کر دیا جائے گا۔”

جاپانی اور امپورٹڈ گاڑیوں کے فیکٹری ٹینٹڈ شیشوں کا قانون

اگر آپ کے پاس جاپان یا تھائی لینڈ سے امپورٹ کی گئی ایسی گاڑی ہے جس کے شیشے کمپنی سے ہی کالے ہیں، تو کیا ٹریفک پولیس آپ کے شیشے توڑ دے گی یا اتروا دے گی؟ ڈی آئی جی نے اس پر کار مالکان کو تسلی دیتے ہوئے واضح طریقہ کار بتایا:

  1. دستاویزات پاس رکھیں: اگر گاڑی کے شیشے اصل فیکٹری میڈ ہیں، تو اپنے پاس امپورٹ کے کاغذات کا ثبوت رکھیں۔

  2. سہولت سینٹر کا دورہ کریں: کراچی کے ہر ضلع میں اب کم از کم ایک یعنی کل 11 ٹریفک سہولت سینٹرز قائم ہیں۔ اگر خودکار کیمرے سے غلطی سے فیکٹری والے شیشوں پر چالان ہو جائے، تو آپ وہاں جا کر اسے فوری منسوخ کروا سکتے ہیں۔

اسپیڈ کیمرے اور نئے علاقوں میں نیٹ ورک کا پھیلاؤ

شاہراہِ فیصل پر خودکار کیمروں کے ذریعے اسپیڈ کی سخت نگرانی کی جاتی ہے، جہاں قانونی حد درج ذیل ہے:

گاڑی کی قسم زیادہ سے زیادہ قانونی اسپیڈ
پرائیویٹ کاریں / ہلکی گاڑیاں 70 کلومیٹر فی گھنٹہ
بھاری ٹرانسپورٹ (HTV) / پبلک بسیں 30 کلومیٹر فی گھنٹہ

تاہم، گلستانِ جوہر اور گلشنِ اقبال جیسے بڑے رہائشی اور تجارتی علاقے ابھی ان کیمروں کی پہنچ سے دور ہیں۔ پورے شہر میں نیٹ ورک پھیلانے کے لیے بھاری فنڈز کی ضرورت ہے۔ اب فیز 2 (Phase 2) کے تحت جن علاقوں میں کیمرے لگائے جا رہے ہیں، ان میں شامل ہیں:

  • گلستانِ جوہر اور گلشنِ اقبال

  • جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی طرف جانے والی سڑکیں

  • کلفٹن اور ڈی ایچ اے (DHA) کا پورا علاقہ

محکمے کا اندازہ ہے کہ پورے کراچی کو ڈیجیٹل کیمروں سے کور کرنے میں دو سے تین سال کا وقت لگے گا، جو کہ شہر کے بی آر ٹی (BRT) بس منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ہی مکمل ہوگا۔

وی وی آئی پی (VVIP) پروٹوکول اور نجی سیکیورٹی گارڈز کی حقیقت

ہم نے انٹرویو میں اشرافیہ کے پروٹوکول کلچر اور سڑکوں پر 100 کلومیٹر سے زیادہ کی رفتار سے دوڑتے ڈالوں (ڈبل کیبن ٹرکوں) اور ان کے پیچھے اسلحہ لہراتے نجی گارڈز کا معاملہ بھی اٹھایا، جو عام شہریوں کے لیے خوف کا باعث بنتے ہیں۔ ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ ہائی لیول سیکیورٹی کی نقل و حرکت کو خطرات کے پیشِ نظر قانونی استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔

“پورے صوبہ سندھ میں صرف دو شخصیات ایسی ہیں جنہیں مکمل VVIP استثنیٰ حاصل ہے، جبکہ مزید 8 سے 9 آفیشلز ہائی رسک وی آئی پی کیٹیگری میں آتے ہیں۔ ان کے سیکیورٹی قافلوں کو تیز رفتاری کی قانونی اجازت ہوتی ہے تاکہ وہ بغیر رکے محفوظ گزر سکیں۔ ہم سڑکیں بند کرنے کے بجائے انہیں ‘فاسٹ ٹریک’ دیتے ہیں۔”

جب ان سے نجی ڈالوں کے پیچھے بیٹھے گارڈز کی جانب سے اسلحہ کی نمائش کے بارے میں پوچھا گیا، تو ٹریفک چیف نے بتایا کہ یہ ٹریفک پولیس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ ٹریفک پولیس کا کام صرف گاڑیوں کی روانی اور سڑک کے قوانین کو دیکھنا ہے۔ اسلحہ کی سرعام نمائش پاکستان پینل کوڈ (PPC) کے تحت آتی ہے اور یہ ضلعی پولیس کی ذمہ داری ہے۔

ڈرائیورز کے لیے 3 سنہری اصول

ٹریفک ڈیپارٹمنٹ نے تمام شہریوں اور پاک ویلرز سے گزارش کی ہے کہ وہ چالان کے ڈر سے نہیں بلکہ اپنی حفاظت کے لیے ان عادات کو اپنائیں:

کار ڈرائیورز کے لیے:

  • سیٹ بیلٹ لازمی باندھیں: یہ چالان سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ حادثے کی صورت میں آپ کی جان بچانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔

  • اسپیڈ لمٹ کا خیال رکھیں: تیز رفتاری کی صورت میں اچانک سامنے آنے والے خطرے پر گاڑی کنٹرول کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

  • موبائل فون سے دور رہیں: ڈرائیونگ کے دوران ٹیکسٹ کرنا یا فون کا استعمال زندگی بھر کا پچھتاوا بن سکتا ہے۔

موٹر سائیکل سواروں کے لیے:

  • ہیلمٹ کے بغیر بائیک نہ چلائیں: دو پہیا گاڑیوں کے حادثات میں سر کی چوٹ سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔

  • لائٹس ٹھیک رکھیں: رات کے وقت “گھوسٹ بائیک” (بغیر لائٹ کی بائیک) بن کر نہ نکلیں، ہیڈلائٹ اور بیک لائٹ لازمی آن رکھیں۔

  • ون وے کی خلاف ورزی بند کریں: غلط سمت میں بائیک چلانا انتہائی خطرناک ہے، یہ سامنے سے آنے والے کو حادثے پر مجبور کر دیتا ہے۔

کم عمر ڈرائیونگ پر اہم نوٹ: 18 سال سے کم عمر بچوں کو گاڑی یا بائیک دینا محبت نہیں بلکہ ان کی اور سڑک پر چلنے والے معصوم لوگوں کی زندگی کو شدید خطرے میں ڈالنا ہے۔ لائسنس کے بغیر بچوں کو چابیاں ہرگز نہ دیں۔

ٹریفک کا نظم و ضبط ریاست کے نظام اور شہریوں کی ذمہ داری کا مشترکہ نام ہے۔ محفوظ ڈرائیونگ کریں، اپنی لین میں رہیں، اور دوسروں کا خیال رکھیں۔

گاڑیوں کے تفصیلی ریویوز، قیمتوں اور آٹو انڈسٹری کی ہر بڑی اپ ڈیٹ کے لیے,گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel