کراچی کے کار کلچر میں ایک بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ سپر ہائی وے پر ایک نیا آٹو کراس ٹریک تیار کر لیا گیا ہے جہاں اب فلڈ لائٹس کی روشنی میں رات کے وقت کار ریسنگ کے مقابلے ہوں گے۔ یہ ٹریک مقامی موٹر اسپورٹس شائقین کو سڑکوں کے بجائے ایک مخصوص اور محفوظ مقام فراہم کرے گا۔
یہ ٹریک دو کلومیٹر سے زیادہ طویل ہے، جسے روشن کرنے کے لیے 100 لائٹ ٹاورز، 300 ایل ای ڈی لائٹس اور 4 ہائی ماسٹ ٹاورز نصب کیے گئے ہیں۔ اسے پاکستان کا پہلا “سپر فلڈ لٹ اسپورٹس ٹریک” قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹریک پر کیا سہولیات میسر ہوں گی؟
یہ سہولت سپر ہائی وے پر واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے اندر تیار کی گئی ہے۔ اس ٹریک کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں:
-
400 میٹر کا ڈریگ ریس اسٹرپ: جہاں دو گاڑیوں کے درمیان 200 میٹر کے آمنے سامنے مقابلے ہو سکیں گے۔
-
جدید ٹائمنگ سسٹم: فنش لائن پر جدید ٹائمنگ سسٹم لگایا گیا ہے تاکہ ریس کے نتائج بالکل درست ہوں۔
-
تیز رفتاری: ڈریگ ایونٹس کے دوران گاڑیوں کی رفتار 250 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بھی تجاوز کرنے کی توقع ہے۔

ریسنگ کے چار مختلف فارمیٹس
پہلے مرحلے میں اس مقام پر درج ذیل مقابلوں کی توقع ہے:
-
آٹو کراس
-
سائیڈ بائی سائیڈ ڈریگ ریسنگ
-
ڈرفٹنگ
-
بگی اے ٹی وی اور ریموٹ کنٹرول آف روڈ ایونٹس
کراچی کے لیے یہ کیوں اہم ہے؟
کراچی میں گاڑیوں کے شوقین افراد کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، لیکن منظم موٹر اسپورٹس کے لیے جگہ ہمیشہ کم رہی ہے۔ رات کے وقت فلڈ لائٹس میں ریسنگ نہ صرف گرم موسم میں بہتر ہے بلکہ یہ ان لوگوں کے لیے بھی آسان ہے جو دن بھر مصروف رہتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک مخصوص ٹریک غیر قانونی اسٹریٹ ریسنگ کا محفوظ متبادل ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ یہ سستا اور بہتر طریقے سے منظم ہو۔
حفاظت: اصل امتحان
رپورٹس کے مطابق، ٹریک کے گرد 2.5 کلومیٹر کی سروس لائن ہنگامی امداد کے لیے رکھی گئی ہے، جہاں فائر بریگیڈ، ایمبولینس اور طبی امداد موجود ہوگی۔ تماشائیوں، پارکنگ، کھانے پینے اور گاڑیوں کی سروس کے لیے بھی الگ جگہ مختص کی گئی ہے۔
موٹر اسپورٹس میں حفاظت کا دارومدار صرف لائٹس پر نہیں بلکہ سخت قوانین، ہیلمٹ کے استعمال اور گاڑیوں کے معائنے پر ہوتا ہے۔ 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار پر معمولی سی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔
پاک ویلز کی رائے
کراچی کے موٹر اسپورٹس منظر نامے کے لیے یہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ فلڈ لائٹ ٹریک شائقین کو ایک کنٹرول شدہ ماحول میں مقابلہ کرنے اور ڈرائیونگ ڈسپلن سیکھنے کا موقع دے گا۔
اگر ایونٹس کو پیشہ ورانہ انداز میں چلایا گیا، تو یہ پاکستان میں موٹر اسپورٹس کلچر کو مضبوط کرے گا اور سڑکوں پر ہونے والی خطرناک ریسنگ میں کمی لائے گا۔ اب ذمہ داری آرگنائزرز اور ڈرائیورز پر ہے کہ وہ اس سہولت کا بہترین استعمال کیسے کرتے ہیں۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔


تبصرے بند ہیں.