کراچی میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے تعمیراتی کام کے دوران مبینہ طور پر پیش آنے والے ایک حادثے میں آنکھ ضائع ہونے پر ایک سمندر پار پاکستانی نے 17 کروڑ 87 لاکھ روپے معاوضے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، درخواست گزار نے ریڈ لائن پروجیکٹ کے ڈائریکٹر اور تعمیراتی ٹھیکیدار کو فریق بنایا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے حکومتِ سندھ اور پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے کی نگرانی کرنے والے دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یونیورسٹی روڈ پر پیش آنے والا مبینہ حادثہ
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شہری یونیورسٹی روڈ پر سفر کر رہے تھے جب ریڈ لائن تعمیراتی ایریا کے قریب ان کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا۔
درخواست گزار کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ سڑک کے کنارے لگائے گئے حفاظتی بیرئیرز پر نہ تو کوئی چمکنے والے ریفلیکٹرز (Reflectors) موجود تھے اور نہ ہی وہاں کوئی وارننگ سائن یا واضح حفاظتی نشانات لگائے گئے تھے۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ ان حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی کے باعث یہ ہولناک حادثہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ان کے چہرے پر شدید چوٹیں آئیں اور ایک آنکھ ہمیشہ کے لیے ضائع ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب درخواست گزار سال 2025 میں حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس لوٹے تھے۔
انتظامیہ اور ٹھیکیدار پر غفلت کا الزام
درخواست گزار نے منصوبے کی انتظامیہ اور ٹھیکیدار پر شدید غفلت کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تعمیراتی زون کے اطراف مناسب حفاظتی انتظامات کرنے میں مکمل ناکام رہے۔
اس پٹیشن کے ذریعے انہوں نے اپنے علاج کے اخراجات، مستقل معذوری اور حادثے کی وجہ سے ہونے والے دیگر مالی و ذہنی نقصانات کے ازالے کے لیے 178.7 ملین روپے (17 کروڑ 87 لاکھ روپے) ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
عدالت نے ابھی ان الزامات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا ہے اور نہ ہی ابھی تک حکومتِ سندھ، بی آر ٹی ریڈ لائن حکام یا ٹھیکیدار کی جانب سے اس معاملے پر کوئی تفصیلی جواب سامنے آیا ہے۔
آٹو انڈسٹری اور ملک بھر کی ہر بڑی اپ ڈیٹ کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.