کراچی میں 30 دنوں میں 3 ہزار موٹر سائیکلیں غائب، سیف سٹی ٹیکنالوجی ناکام

179

سی پی ایل سی (CPLC) کے حالیہ اعداد و شمار نے کراچی کے شہریوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ فروری کے مقابلے میں مارچ میں موٹر سائیکل چوری کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹریٹ کرائم کے بجائے اب پارکنگ سے گاڑیاں اٹھانے والے گروہ زیادہ سرگرم ہیں۔

مارچ 2026 کے اعداد و شمار ایک نظر میں:

کیٹیگری فروری 2026 مارچ 2026 رجحان (ٹارگٹ)
موٹر سائیکل چوری (پارکنگ) 2,726 3,027 +11% (اضافہ)
موٹر سائیکل چھیننا (اسلحہ) 452 440 -2.6%
گاڑی چوری (پارکنگ) 143 140 -2.1%
گاڑی چھیننا (اسلحہ) 22 17 -22.7%

اربوں روپے کا سیف سٹی منصوبہ کیوں ناکام ہوا؟

  1. محدود کوریج: کیمرے صرف 40 مخصوص مقامات (ٹول پلازہ اور داخلی راستوں) پر ہیں، جبکہ جرائم پیشہ افراد رہائشی علاقوں کی گلیوں کا استعمال کرتے ہیں۔

  2. کیمروں کی صفائی: مٹی اور دھوئیں کی وجہ سے کیمروں کے لینز دھندلا چکے ہیں، جس سے چہروں کی شناخت ناممکن ہو جاتی ہے۔

  3. سست ردِعمل: اگر سسٹم الرٹ دے بھی دے، تو پولیس کی جوابی کارروائی اتنی سست ہے کہ مجرم گاڑی لے کر غائب ہو جاتے ہیں۔

آپ اپنی سواری کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں؟

سیکیورٹی لیول موٹر سائیکل کے لیے کار کے لیے
بنیادی ہیوی ڈیوٹی ڈسک لاک فیکٹری اموبلائزر / اسٹیرنگ لاک
درمیانہ خفیہ کِل سوئچ (Kill Switch) آفٹر مارکیٹ الارم سسٹم
اعلیٰ جیو فینسنگ والا GPS ٹریکر فیول کٹ آف والا ٹریکر

پاک ویلز بصیرت: اگر آپ پاک ویلز کے ذریعے استعمال شدہ بائیک یا کار خرید رہے ہیں، تو ہمیشہ سی پی ایل سی (CPLC) سے کلیئرنس لازمی چیک کریں۔ کراچی جیسے شہر میں اب صرف ہینڈل لاک پر بھروسہ کرنا اپنی محنت کی کمائی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel