بلیک لسٹ کیٹیگری: کون کون نشانہ پر ہے؟

46

سندھ پولیس کے خودکار ڈیجیٹل سسٹم (TRACS) نے شہر کی سڑکوں پر خاموشی سے ڈیٹا اکٹھا کر کے چار بڑی کیٹیگریز کے مالکان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے:

  • زیرِ التوا ای-چالان (Pending E-Challans): وہ شہری جو کیمرے سے کٹنے والی چالان پرچیوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے تھے اور اب تک اپنے واجبات ادا نہیں کیے۔

  • غیر منتقل شدہ ملکیت (Un-transferred Ownership): وہ گاڑیاں جو فروخت تو ہو گئیں لیکن خریدار نے اسے باقاعدہ اپنے نام پر منتقل نہیں کروایا۔ سسٹم موجودہ ڈرائیور اور ایکسائز ریکارڈ کے مالک کے درمیان فرق کو پکڑ لیتا ہے۔

  • نامکمل دستاویزات (Incomplete Documentation): ایسی گاڑیاں جن کا ڈیٹا ایکسائز مینوئل میں ادھورا ہے (مثلاً موبائل نمبر تو درج ہے لیکن مالک کا نام غائب ہے)۔

  • غلط پتے (Incorrect Addresses): وہ گاڑیاں جن کے مالکان کے پتے یا بائیو میٹرک تصدیق ایکسائز ڈیٹا بیس میں غیر تصدیق شدہ ہیں۔

 سب سے بڑا خطرہ: اگر آپ آج بھی Open Transfer Letter پر گاڑی چلا رہے ہیں، تو یکم جولائی سے آپ کی گاڑی ٹریفک پولیس کے ہتھے چڑھتے ہی موقع پر ٹو (Tow) کر لی جائے گی۔ کسی اجنبی کے نام پر رجسٹرڈ گاڑی کو فوراً اپنے نام منتقل کروائیں۔

گاڑی کا بلیک لسٹ اسٹیٹس کیسے چیک کریں؟

شہریوں کو ناکہ بندیوں پر اچانک پریشانی سے بچانے کے لیے سندھ پولیس نے اپنا آن لائن ٹریکنگ پورٹل عام عوام کے لیے فعال کر دیا ہے۔ آپ ابھی درج ذیل طریقے سے اپنی گاڑی کا اسٹیٹس دیکھ سکتے ہیں:

  • آفیشل لنک پر جائیں: اپنے موبائل یا کمپیوٹر پر trax.sindhpolice.gov.pk کھولیں۔

  • ڈیٹا درج کریں: اپنی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر (مثلاً AAA-123) یا اپنا شناختی کارڈ (CNIC) نمبر درج کریں۔

  • موبائل ایپ کا استعمال: آپ گوگل پلے اسٹور سے سندھ پولیس کی آفیشل ایپ TRACS 4 Citizens ڈاؤن لوڈ کر کے بھی لائیو چالان اور بلیک لسٹ کا ریکارڈ دیکھ سکتے ہیں۔

(نوٹ: پورٹل پر ٹریفک کے شدید دباؤ کی وجہ سے کچھ صارفین کو ‘سرور ٹائم آؤٹ’ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے پیج لوڈ نہ ہونے کی صورت میں تھوڑی دیر بعد دوبارہ کوشش کریں)۔

پاک ویلز کا حتمی فیصلہ

کراچی میں اسٹریٹ کرائمز اور لاوارث یا بنا نمبر پلیٹ گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کو دیکھتے ہوئے ٹریفک کا یہ فیس لیس سسٹم (TRACS) ایک انتہائی ضروری اور مثبت قدم ہے۔ تاہم، محکمہ ایکسائز کو بھی چاہیے کہ وہ بائیو میٹرک اور ٹرانسفر کے عمل کو اتنا آسان بنائے کہ عام اور قانون پسند شہری دفتری چکروں اور ریڈ ٹیپ (سرکاری تاخیر) میں پھنس کر نہ رہ جائیں۔

یکم جولائی کی ڈیڈ لائن آنے سے پہلے اپنے چالان کلیئر کریں، ٹرانسفر ڈیڈز مکمل کریں اور آن لائن اسٹیٹس لازمی چیک کریں۔ ورنہ اگلے پولیس ناکے سے آپ کو گاڑی کے بغیر پیدل ہی گھر جانا پڑے گا۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel