خیبر پختونخوا کے محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول نے گاڑیوں کی شناخت کے نظام میں ایک انقلابی تبدیلی لاتے ہوئے “قبائلی” اور علاقائی نمبر پلیٹس کی نیلامی کا اعلان کیا ہے۔ ستائیس جنوری کو پشاور میں ہونے والی اس نیلامی کے ذریعے شہری اپنی گاڑیوں پر اپنے خاندان، قبیلے یا علاقے کا نام نمایاں کر سکیں گے۔
مخصوص نام اور قبائلی شناخت
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار گاڑیوں کے مالکان کو ایسے ناموں پر مشتمل پلیٹس دی جا رہی ہیں جو ان کے حسب و نسب کی عکاسی کرتی ہیں۔ نیلامی میں شامل چند بڑے نام یہ ہیں:
-
قبائلی نام: آفریدی، خٹک ون، محسود، وزیر، گنڈاپور، اور یوسفزئی ون۔
-
علاقائی نام: ایبٹ آباد، سوات، مالاکنڈ، اور کوہاٹ۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں اس اقدام کا مقصد انتظامی جدید کاری کے ساتھ ساتھ شہریوں میں اپنی ثقافت پر فخر کے احساس کو فروغ دینا اور حکومتی خزانے کے لیے آمدن پیدا کرنا ہے۔
نیلامی کی شرائط اور طریقہ کار
اس خصوصی نیلامی میں حصہ لینے کے لیے محکمے نے مخصوص مالی شرائط رکھی ہیں:
-
ابتدائی قیمت: ان مخصوص نمبر پلیٹس کی کم از کم قیمت دس لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
-
ضمانتی رقم: بولی میں حصہ لینے کے لیے ایک لاکھ روپے بطور سیکیورٹی ڈپازٹ جمع کروانا لازمی ہے۔
-
انتباہ: اگر کامیاب خریدار مقررہ وقت میں بقیہ رقم جمع نہیں کرواتا، تو اس کی ضمانتی رقم ضبط کر لی جائے گی۔
ڈیجیٹل شفافیت اور سیکیورٹی
یہ نئی نمبر پلیٹس صرف سجاوٹ کے لیے نہیں بلکہ ایک محفوظ ڈیجیٹل نظام کا حصہ ہیں۔ اس نئے نظام کے تحت نمبر پلیٹ گاڑی کے بجائے مالک کے شناختی کارڈ سے منسلک ہوگی۔ اگر آپ گاڑی فروخت کر دیں تو بھی یہ نمبر تین سال تک آپ کے نام رہے گا، بالکل ایک موبائل سم کارڈ کی طرح۔ اس سے جعلی نمبر پلیٹس اور ایجنٹ مافیا کا خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی۔
اگلا قدم کیا ہے؟
نیلامی ستائیس جنوری دو ہزار چھبیس کو پشاور میں منعقد ہوگی۔ خواہشمند افراد مزید معلومات اور آن لائن رجسٹریشن کے لیے خیبر پختونخوا ایکسائز پورٹل ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.