آج 13 مارچ 2026 کو خیبر پختونخوا حکومت نے “فیول کنزرویشن اینڈ ریسپانسبل گورننس انیشیٹو” کے تحت ایک جامع کفایت شعاری پلان کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق اگلے دو ماہ تک صوبے کی 60 فیصد سرکاری گاڑیاں استعمال نہیں کی جائیں گی تاکہ کروڑوں روپے کے ایندھن کی بچت کی جا سکے۔
اس بچت منصوبے کے اہم نکات:
-
گاڑیوں پر پابندی: محکمہ جاتی گاڑیوں کا 60 فیصد حصہ سڑکوں پر نہیں آئے گا، تاہم پولیس، ریسکیو اور ہنگامی خدمات کی گاڑیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
-
ایندھن کے کوٹے میں کمی: سرکاری افسران کے ماہانہ پیٹرول الاؤنس میں 25 فیصد مزید کمی کر دی گئی ہے، جس سے مجموعی کٹوتی اب 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
-
گھر سے کام (Work From Home): سرکاری دفاتر میں 50 فیصد عملے کے لیے گھر سے کام کرنے کی پالیسی متعارف کروائی گئی ہے تاکہ سفر کی ضرورت کم ہو۔
-
وی آئی پی پروٹوکول پر پابندی: وی آئی پی پروٹوکول گاڑیوں اور ہیلی کاپٹر کے غیر ضروری استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
-
آن لائن میٹنگز: تمام محکمانہ اجلاسوں کے لیے ورچوئل یا آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
معیشت اور آٹو سیکٹر پر اثرات:
حکومت کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ ایندھن کی عالمی قیمتیں ملکی معیشت پر کتنا شدید دباؤ ڈال رہی ہیں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو دیگر صوبے بھی اسی طرح کی پالیسیاں اپنا سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف پیٹرول کی طلب میں کمی آئے گی بلکہ سرکاری سطح پر گاڑیوں کے مینجمنٹ سسٹم میں بھی بہتری آنے کی امید ہے۔
حکومت دو ماہ بعد اس صورتحال کا دوبارہ جائزہ لے گی جس کے بعد ان پابندیوں کو بڑھانے یا ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.