خیبر پختونخوا حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ 55 روپے فی لیٹر کے بڑے اضافے کے بعد غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت صوبے کے رجسٹرڈ موٹر سائیکل سواروں کو مجموعی طور پر 2,200 روپے دیے جائیں گے، جو دو اقساط (1,100 روپے فی قسط) میں منتقل ہوں گے۔
اس سبسڈی کی اہمیت اور تفصیلات:
-
براہِ راست ریلیف: یہ امداد ان محنت کشوں، طلبہ اور ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے ہے جن کا روزانہ کا گزر بسر موٹر سائیکل پر منحصر ہے۔
-
رجسٹرڈ بائیکرز: یہ رقم صرف ان موٹر سائیکلوں کے مالکان کو ملے گی جو خیبر پختونخوا کے ایکسائز ڈپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ ہیں۔
-
وفاقی اسکیم سے فرق: وفاقی حکومت کی ای بائیک اسکیم نئی الیکٹرک بائیک خریدنے کے لیے ہے، جبکہ کے پی حکومت کا یہ اقدام موجودہ پیٹرول بائیک صارفین کو فوری نقد ریلیف فراہم کرنا ہے۔
-
مقصد: اس اقدام کا بنیادی مقصد پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ “شاک” سے عام آدمی کے ماہانہ بجٹ کو بچانا ہے۔
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
حکومت جلد ہی اس رقم کی منتقلی کے طریقہ کار اور اہلیت کی جانچ پڑتال کے لیے پورٹل یا ایس ایم ایس سروس کا اعلان کرے گی۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کے کاغذات اور رجسٹریشن کی تفصیلات درست رکھیں تاکہ رقم کی منتقلی میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
اگرچہ یہ ایک عارضی ریلیف ہے، لیکن مہنگائی کے اس دور میں لاکھوں خاندانوں کے لیے یہ ایک بڑی مدد ثابت ہو سکتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.