لاہور انتظامیہ نے بسنت کے تین روزہ میلے کے دوران شہریوں کی جان بچانے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کمشنر لاہور کے مطابق، شہر کی کسی بھی سڑک پر کوئی بھی موٹر سائیکل اس وقت تک داخل نہیں ہو سکے گی جب تک اس پر حفاظتی تار یا سیفٹی راڈ نصب نہ ہو۔ یہ فیصلہ پتنگ کی ڈور سے ہونے والے جان لیوا حادثات کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
سیفٹی راڈ کی تنصیب کے لیے حکومتی کیمپ
حکومت نے شہریوں کی سہولت کے لیے لاہور بھر میں سو روڈ سیفٹی کیمپ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے:
-
ہدف: ان کیمپوں کے ذریعے تقریباً دس لاکھ موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈ نصب کیے جائیں گے۔
-
گنجائش: روزانہ پچاس سے ساٹھ ہزار بائیکس پر راڈ لگانے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
-
مقصد: یہ راڈ ڈور کو سوار کی گردن یا چہرے تک پہنچنے سے پہلے ہی ہٹا دیتا ہے، جس سے قیمتی جانیں محفوظ رہتی ہیں۔
ریڈ زونز اور ہیلمٹ کی پابندی
لاہور پولیس نے سیکیورٹی کے حوالے سے شہر کو مختلف رنگوں کے زونز میں تقسیم کیا ہے:
-
ریڈ زونز: ان علاقوں میں سیفٹی اینٹینا کے بغیر داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔
-
ہیلمٹ لازمی: بائیک چلانے والے اور پیچھے بیٹھنے والے، دونوں کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہوگا۔
-
قانونی کارروائی: قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی موٹر سائیکلیں بند کر دی جائیں گی اور بھاری جرمانے بھی عائد کیے جائیں گے۔
شہریوں کے لیے مشورہ
بسنت کے آفیشل ایام (چھ سے آٹھ فروری دو ہزار چھبیس) سے پہلے ہی اپنی موٹر سائیکل پر سیفٹی راڈ لگوا لیں۔ حکومت کی جانب سے لگائے گئے خصوصی کیمپوں سے آپ یہ سہولت حاصل کر سکتے ہیں تاکہ تہوار کے دوران آپ کو سفر میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تبصرے بند ہیں.