لاہور کے شہریوں اور خاص طور پر ڈیفنس اور والٹن کے رہائشیوں کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ لاہور انتظامیہ نے شہر کے سب سے مصروف ترین چوکوں میں سے ایک، ڈیفنس موڑ پر گاڑیوں کی لمبی لائنوں کو ختم کرنے اور ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کے لیے ایک شاندار پلان تیار کر لیا ہے۔
یہ منصوبہ عارضی اقدامات کے بجائے سڑک کی مستقل ری ڈیزائننگ (دوبارہ بناوٹ) اور بہتر مینجمنٹ پر مرکوز ہے۔ اس پلان کو لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر (CTO) سید عبدالرحیم شیرازی، ٹریفک انجینئرنگ اینڈ پلاننگ ایجنسی (TEPA) اور والٹن کینٹ بورڈ کے حکام نے متعدد بار موقع کا معائنہ کرنے اور تفصیلی مشاورت کے بعد حتمی شکل دی ہے۔
چوڑی ٹرننگ لین اور ٹریفک کی تیز رفتار
اس نئے منصوبے کے تحت ڈیفنس موڑ پر مڑنے والی لین کی چوڑائی کو 22 فٹ سے بڑھا کر 33 فٹ کر دیا جائے گا۔
حکام کو امید ہے کہ اس تبدیلی سے درج ذیل بڑے فائدے ہوں گے:
-
گاڑیوں کی گنجائش میں اضافہ: اس چوک سے گزرنے والی گاڑیوں کی گنجائش 6,000 گاڑی فی گھنٹہ سے بڑھ کر تقریباً 9,000 گاڑی فی گھنٹہ ہو جائے گی۔
-
بہتر اسپیڈ: چوک پار کرتے وقت گاڑیوں کی اوسط رفتار، جو اس وقت محض 15 سے 20 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، اس منصوبے کے بعد بڑھ کر 40 سے 45 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی۔
رش کے اوقات میں لمبی لائنوں سے نجات
ڈیفنس موڑ اس وقت ٹریفک کا ایک بہت بڑا گڑھ بن چکا ہے، جہاں خاص طور پر صبح اور شام کے وقت ٹریفک کی لائنیں 400 سے 600 میٹر تک لمبی ہو جاتی ہیں۔ سڑک کی اس نئی ڈیزائننگ کا بنیادی مقصد ان لمبی لائنوں کو ختم کرنا ہے تاکہ ڈیفنس، والٹن روڈ اور اس کے قریبی علاقوں کے درمیان سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو روزانہ کے عذاب سے نجات مل سکے۔
یہ اپ گریڈ کیوں ضروری ہے؟
لاہور میں گاڑیوں کی تعداد میں دن بہ دن تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کا پورا دباؤ شہر کے اہم چوکوں پر آتا ہے۔ اگرچہ سگنل فری کوریڈورز اور سڑکوں کی توسیع نے کئی علاقوں میں ٹریفک کا مسئلہ حل کیا ہے، لیکن کچھ چوک اب بھی شدید جام کا شکار رہتے ہیں۔
اگر ڈیفنس موڑ کے اس منصوبے پر صحیح طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو یہ روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے ایک بڑی راحت ثابت ہوگا۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ لاہور کے اس اہم ترین روٹ پر سفر کرنا انتہائی آسان ہو جائے گا۔
لاہور کی ٹریفک اور سڑکوں کی تازہ ترین صورتحال کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.