لیمبورگینی: کچے راستوں کے لیے تیار نئی گاڑیاں
گڈ ووڈ فیسٹیول آف اسپیڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، لیمبورگینی کے چیف مارکیٹنگ اور سیلز آفیسر، فیڈریکو فوسچینی نے اس بات کی تصدیق کی کہ برانڈ اس آف روڈ فلسفے کو آگے بڑھائے گا۔
انہوں نے کہا:
“ہمارے برانڈ کی بنیادی اقدار میں سے ایک ‘غیر متوقع’ ہونا ہے… اور ہوراکان اسٹیراٹو کا تصور واقعی غیر متوقع تھا۔”
اگرچہ انہوں نے ابھی کسی نئے ماڈل کا حتمی اعلان نہیں کیا، لیکن انہوں نے اشارہ دیا کہ ان کے نئے ہائبرڈ ماڈل Temerario اور سپر ہٹ ایس یو وی Urus کے پلیٹ فارمز پر اس اسٹرکچر کو ڈھالنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔
کیا اگلی باری “Urus Sterrato” کی ہے؟
ایک ناہموار اور کچے راستوں کے لیے تیار کردہ Urus SUV کی آمد کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ حال ہی میں لانچ ہونے والی Urus SE Hybrid میں پہلے ہی ایک مخصوص ‘Rally’ موڈ دیا گیا ہے کیونکہ کمپنی کے مطابق مالکان ان گاڑیوں کو واقعی آف روڈز پر لے کر جاتے ہیں۔ فوسچینی کا کہنا ہے کہ ایک عام یورس اور اس کے ممکنہ اسٹیراٹو ورژن میں کوئی بہت بڑا انجینئرنگ کا فاصلہ نہیں ہے، اس لیے ہم اسے بڑی آسانی سے تیار کر سکتے ہیں۔
پاکستانی تناظر: اسپیڈ بریکرز، گڑھے اور کروڑوں روپے کے ٹیکسز
اگرچہ یہ گاڑیاں یورپ کے الپائن ٹریکس کے لیے ڈیزائن کی جاتی ہیں، لیکن پاکستان کے سپر امیر طبقے کے لیے یہ دنیا کی سب سے عملی سپر کار ہو سکتی ہے۔ اس کی وجوہات درج ذیل ہیں:
لاجواب گراؤنڈ کلیئرنس (Practical Ground Clearance)
کراچی کے ڈی ایچ اے اور کلفٹن سے لے کر لاہور کے گلبرگ اور بحریہ ٹاؤن تک، کسی بھی عام نیچی سپر کار (جیسے لیمبورگینی ایوینٹاڈور یا ہوراکان) کو چلانا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہے۔ غیر اعلانیہ اسپیڈ بریکرز، گڑھے اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑکیں گاڑی کے نیچے کا حصہ تباہ کر دیتی ہیں۔ ایسے میں فیکٹری کی طرف سے اونچی کی گئی سسپنشن اور باڈی پروٹیکٹرز کے ساتھ آنے والی لیمبورگینی اسٹیراٹو پاکستانی سڑکوں کی دشمن نمبر ون (ٹوٹی سڑکوں) کے خلاف بہترین ہتھیار ہے۔
پاکستان امپورٹ کرنے کا خرچہ؟
عالمی سطح پر ہوراکان اسٹیراٹو کی لانچ پرائس تقریباً 270,000 ڈالرز تھی۔ اگر آپ اسے آج پاکستان امپورٹ کرنا چاہیں، تو موجودہ کسٹمز ڈیوٹیز، لگژری امپورٹ پر عائد ہیوی اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی (SED)، جنرل سیلز ٹیکس اور ریگولیٹری ڈیوٹیوں کے بعد اس گاڑی کی کلیئرڈ قیمت کروڑوں سے بڑھ کر اربوں روپے تک پہنچ جائے گی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس اس سطح کا پیسہ موجود ہے، تو یہ پاکستان لانے کے لیے اب تک کی سب سے عملی اور کارآمد سپر کار ثابت ہوگی۔
پاک ویلز کا حتمی فیصلہ
اگرچہ لیمبورگینی کے اسٹوڈیوز فی الحال اپنی نئی ریویلٹو (Revuelto) اور یورس SE کے آرڈرز پورے کرنے میں مصروف ہیں اور اگلی اسٹیراٹو کو مارکیٹ میں آنے میں تھوڑا وقت لگے گا، لیکن یہ بات طے ہے کہ آف روڈ سپر کارز کا یہ نیا ٹرینڈ اب آٹو انڈسٹری کا مستقل حصہ بن چکا ہے۔
پاکستانی شائقین کے لیے، ایک ایسی لیمبورگینی جو اسپیڈ بریکر پر نیچے سے نہ ٹکرائے اور پٹرول پمپ تک جاتے ہوئے گڑھوں سے نہ ڈرے، کسی معجزے سے کم نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کا کون سا نامور رئیل اسٹیٹ ٹائیکون یا بزنس مین نجی امپورٹ کے ذریعے اس کھردرے سانڈ (Steerato) کو سب سے پہلے ملکی سڑکوں پر لاتا ہے۔
پاکستان میں امپورٹڈ لگژری گاڑیوں پر عائد نئے ٹیکس اسٹرکچرز، کسٹمز ڈیوٹی کیلکولیٹر اور ملک میں موجود نایاب اسپورٹس کاروں کی اپڈیٹس کے لیے پاک ویلز بلاگ مانیٹر کرتے رہیں۔
تبصرے بند ہیں.