پنجاب حکومت کے بسنت فیسٹیول پر پابندی ہٹانے کے فیصلے کے خلاف قانونی چیلنج دائر

49

ایک قانونی چیلنج لاہور ہائی کورٹ میں دائر کر دیا گیا ہے جس میں پنجاب حکومت کے 18 سال پرانے بسنت فیسٹیول پر پابندی ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس سے عوامی تحفظ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے (رپورٹ: ڈان)۔

درخواست ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے جڈیشیل ایکٹوازم پینل (JAP) کی جانب سے دائر کی۔ درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ بسنت کی بحالی سے عوامی تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، کیونکہ ماضی میں خطرناک (کیمیکل والی) ڈور کے استعمال سے متعدد اموات ہو چکی ہیں۔

عرضی میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانونی ڈھانچے کی خلاف ورزی ہے۔ خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 128 کے تحت اختیار استعمال کرتے ہوئے پابندی ہٹانے والا آرڈیننس جاری کرنا چیلنج کیا گیا ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ بسنت پر پابندی ہٹانے والا آرڈیننس اور پتنگ بازی کی اجازت دینے والا نوٹیفکیشن دونوں کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دیا جائے۔

قانونی چیلنج کے جواب میں پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے حکومت کے فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ عوامی تحفظ یقینی بنانے کے لیے سخت ضابطے نافذ کیے جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ کیمیکل/دھات والی ڈور پر مکمل پابندی ہو گی اور پتنگ بازی کے لیے مخصوص مقامات مقرر کیے جائیں گے۔

وزیرِ اطلاعات نے بسنت کی بحالی سے ثقافتی اور معاشی فوائد کی بھی بات کی، کہا کہ اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا اور مقامی کاروبار کو زبردست بوسٹ ملے گا۔

تشویش دور کرنے کے لیے انہوں یقین دلایا کہ اب بسنت کوئی خطرناک کھیل نہیں بلکہ ایک ثقافتی تہوار کی صورت میں منایا جائے گا جسے ذمہ داری سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ قانونی حفاظتی اقدامات کے ذریعے خلاف ورزیوں کو روکا جائے گا۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel