لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی، بالخصوص سردیوں میں اسموگ کے موسم سے نمٹنے کے لیے، تمام ہیوی گاڑیوں بشمول سرکاری گاڑیوں کے لیے مکینیکل فٹنس ٹیسٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
اس فیصلے کا مقصد اسموگ کی بڑھتی ہوئی سطح پر قابو پانا ہے، بالخصوص سردیوں کے مہینوں میں جب آلودگی اپنی انتہا پر ہوتی ہے۔
ہیوی گاڑیوں پر توجہ
یہ حکم ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں جیسے ٹرکوں، بسوں، اور تجارتی نقل و حمل کو نشانہ بناتا ہے، جو زیادہ باریک ذرات کے اخراج کی وجہ سے اسموگ میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ عدالت کی ہدایت کے مطابق، ان گاڑیوں کو اخراج کے معیار کی تعمیل یقینی بنانے کے لیے سخت مکینیکل معائنہ کروانا ہو گا۔
اہم ہدایات
-
فٹنس معائنہ: تمام ہیوی گاڑیاں، بشمول سرکاری گاڑیاں، کو لازمی طور پر اخراج کے معائنوں میں کامیاب ہونا ہوگا۔
-
رپورٹ جمع کرانا: محکمہ ماحولیات گاڑیوں کی حالت کے بارے میں ایک رپورٹ عدالت میں جمع کرائے گا۔
-
نفاذ: حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر تعمیل کنندہ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کریں، جس میں جرمانے اور انہیں سروس سے ہٹانا شامل ہے۔
اقدام کی اہمیت
ہیوی گاڑیوں سے نکلنے والا ڈیزل کا دھواں اسموگ کا ایک بڑا سبب ہے، جس کے صحت اور ماحولیات پر شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا مقصد آلودگی کو کم کرنا اور لاہور جیسے شہری علاقوں میں ہوا کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔
اسموگ میں کمی کی ایک وسیع تر کوشش
یہ فیصلہ LHC کی جانب سے پنجاب میں اسموگ کا مقابلہ کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے، جس میں پہلے بھی تعمیل کنندہ گاڑیوں کے لیے ‘فٹنس سٹیکرز’ نافذ کرنے کے احکامات دیے گئے تھے۔ گاڑیوں کے سخت معائنے علاقے میں آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اگلے اقدامات
عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی ہے، اور محکمہ ماحولیات آئندہ سماعت پر تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرے گا۔ توقع ہے کہ حکام فوری طور پر کارروائی کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ صرف تعمیل کنندہ گاڑیاں ہی سڑکوں پر چلنے کی مجاز ہیں۔

تبصرے بند ہیں.