پنجاب میں برقی بسیں لانے کا منصوبہ اب عدالت میں پہنچ گیا ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق، لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کو نئے برقی ٹرانسپورٹ کے ایک بڑے معاہدے کو منسوخ کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اچانک اس ڈیل کو ختم کرنے کی کوشش کی۔
عدالت کا بس سپلائر کے حق میں فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جسٹس جواد حسن نے ‘یونیورسل موٹرز’ کی درخواست پر حکومت کا حکم نامہ معطل کر دیا۔ کمپنی کا موقف تھا کہ حکومت نے ان کا موقف سنے بغیر اور کسی ٹھوس وجہ کے بغیر ٹھیکہ ختم کیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ حکومت کے اس اقدام کی کوئی واضح قانونی بنیاد نظر نہیں آتی، اس لیے معاملے کی مزید تحقیقات تک منسوخی کا حکم روک دیا گیا ہے۔
ساڑھے چار ارب روپے کا منصوبہ
یہ معاہدہ پنجاب کے ماحول دوست اہداف کا ایک بڑا حصہ ہے۔ مئی دو ہزار پچیس میں ہونے والا یہ معاہدہ نو میٹر لمبی سو برقی بسوں کے لیے تھا، جس کی مالیت تقریباً چار ارب اٹھاون کروڑ روپے ہے۔ اس منصوبے پر کام پہلے ہی شروع ہو چکا تھا:
-
ستمبر دو ہزار پچیس میں بس کا پہلا نمونہ تیار کر کے منظور کیا جا چکا تھا۔
-
کمپنی پینتالیس کروڑ روپے سے زائد کی ضمانتی رقم جمع کرا چکی تھی۔
-
حکومت کام شروع کرنے کے لیے ابتدائی ادائیگی بھی کر چکی تھی۔
عام شہریوں پر اس کا اثر
پنجاب حکومت اسموگ پر قابو پانے اور ایندھن کے اخراجات کم کرنے کے لیے پانچ سو برقی بسیں سڑکوں پر لانا چاہتی ہے۔ تاہم، اس قانونی جنگ کی وجہ سے کام کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ اگر یہ معاہدہ قانونی الجھنوں میں پھنسا رہا، تو ان سو بسوں کی ترسیل میں تاخیر ہوگی، جس کا مطلب ہے کہ لاہور جیسے شہروں میں صاف ہوا اور جدید سفر کا انتظار طویل ہو سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.