طویل عرصے سے تعطل کا شکار ایم – 12 موٹروے منصوبہ حکومت کی ترجیحی فہرست میں واپس آگیا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے مطابق، اس اسکیم کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ 69 کلومیٹر طویل، چھ لین پر مشتمل ایک جدید موٹروے ہے جو سمبڑیال کو کھاریاں سے جوڑے گی۔
یہ منصوبہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سمبڑیال لاہور-سیالکوٹ موٹروے کا اختتامی پوائنٹ ہے۔ اگر یہ روٹ منصوبہ بندی کے مطابق مکمل ہوتا ہے، تو یہ موٹروے نیٹ ورک کو کھاریاں تک وسعت دے گا، جس سے پنجاب کے اس حصے میں مسافروں اور مال بردار ٹریفک کے لیے ایک تیز رفتار راہداری میسر آئے گی۔
سرکاری اپ ڈیٹ کی اہم باتیں
SIFC کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق:
-
ایم – 12 منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، اور وزارت مواصلات کے باہمی تعاون سے بحال کیا گیا ہے۔
-
کونسل نے اسے ایک ترجیحی انفراسٹرکچر اقدام قرار دیا ہے جس کا مقصد علاقائی روابط کو مضبوط بنانا اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔
ایم – 12 روٹ کی اہمیت
عام مسافروں کے لیے اس کا سب سے بڑا فائدہ کھاریاں اور موجودہ موٹروے نیٹ ورک کے درمیان ایک براہ راست اور تیز رفتار رابطہ ہے۔ تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کے لیے اس کی اہمیت صنعتی مراکز اور آبادی والے علاقوں کے درمیان سامان کی ہموار ترسیل میں ہے۔
یہ روٹ سمبڑیال-کھاریاں-اسلام آباد لنک کا حصہ ہے، جو سفر کا فاصلہ کم کرنے اور شہروں کے درمیان آمد و رفت کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایک اہم نکتہ: منصوبے کی بحالی کا مطلب فی الحال “انتظامی ترجیح” ہے، نہ کہ فوری تعمیراتی کام کا آغاز۔ سرکاری پیغام رسانی سے واضح ہے کہ ابھی اس پر پالیسی کی سطح پر کام ہو رہا ہے، تعمیر شروع ہونے کی حتمی تاریخ ابھی سامنے نہیں آئی۔
وہ معلومات جو ابھی تک غیر واضح ہیں
حالیہ سرکاری اعلانات میں کچھ اہم تفصیلات ابھی تک غائب ہیں:
-
تعمیر کے آغاز یا دوبارہ شروع ہونے کی حتمی تاریخ۔
-
منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن۔
-
منصوبے کی موجودہ لاگت (جس میں ماضی میں اضافے کی رپورٹس آچکی ہیں)۔
-
پی پی پی ماڈل کے تحت فراہمی کا مکمل ڈھانچہ۔
آگے کیا ہوگا؟
اب اگلی اہم اپ ڈیٹ صرف بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس میں فنڈز کے حصول، ٹھیکیداروں کی تعیناتی یا تعمیراتی کام کے کسی سنگِ میل کا اعلان شامل ہونا چاہیے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، اسے ایک “انفراسٹرکچر ری سیٹ” کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
پنجاب کے مسافروں کے لیے یہ منصوبہ یقیناً ٹریک کرنے کے قابل ہے کیونکہ اس کی تکمیل سے خطے کا موٹروے نیٹ ورک مضبوط ہوگا اور طویل بین شہر سفر زیادہ آسان ہو جائے گا۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.