مرسڈیز اور گیلی کا ملاپ، مستقبل کی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے نئی حکمتِ عملی
عالمی آٹو مارکیٹ میں ایک بڑی ہلچل اس وقت دیکھنے میں آئی جب یہ خبر سامنے آئی کہ مرسڈیز بینز اپنی اگلی نسل کی کومپیکٹ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چینی کمپنی گیلی کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ مذاکرات اگر کامیاب ہوتے ہیں تو 2030 تک مرسڈیز کی اے کلاس اور بی کلاس جیسی مشہور گاڑیوں کا ڈھانچہ مکمل طور پر بدل جائے گا۔
اس شراکت داری کی اہم وجوہات:
-
جدید آرکیٹیکچر: مرسڈیز گیلی کے GEEA 4.0 الیکٹرانک سسٹم کو اپنے نئے الیکٹرک پلیٹ فارم “فینکس” کے لیے استعمال کر سکتی ہے، جو گاڑی کے انٹیلیجنٹ کاک پٹ اور ڈرائیونگ سسٹم کو کنٹرول کرتا ہے۔
-
چینی مارکیٹ میں مضبوطی: مرسڈیز کے لیے چین سب سے بڑی مارکیٹ ہے، اور گیلی کے ساتھ تعاون اسے وہاں مقامی ٹیکنالوجی اور سپلائی چین تک بہتر رسائی فراہم کرے گا۔
-
موجودہ تعلقات: دونوں کمپنیاں پہلے ہی “اسمارٹ” (Smart) برانڈ کے تحت الیکٹرک گاڑیاں بنا رہی ہیں اور مرسڈیز کی کچھ گاڑیوں میں گیلی کے تیار کردہ انجن بھی استعمال ہو رہے ہیں۔
-
خود مختار ڈرائیونگ: مرسڈیز نے گیلی کی ذیلی کمپنی میں سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے، جو ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیوں پر کام کر رہی ہے۔
آٹو انڈسٹری پر اثرات:
مرسڈیز جیسی پریمیم کمپنی کا چینی ٹیکنالوجی پر اعتماد کرنا اس بات کی علامت ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی دوڑ میں چین اب عالمی لیڈر بن چکا ہے۔ اس تعاون سے نہ صرف پروڈکشن کی لاگت میں کمی آئے گی بلکہ صارفین کو مزید بہتر کنیکٹیویٹی اور جدید فیچرز ملیں گے۔
فی الوقت یہ مذاکرات ابتدائی مراحل میں ہیں اور آنے والے مہینوں میں کسی باضابطہ معاہدے کی توقع کی جا رہی ہے۔

تبصرے بند ہیں.