مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی پاکستان میں آٹو پارٹس کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا کر سکتی ہے، جس سے انڈس موٹر کمپنی کے مقامی طور پر اسمبل شدہ ٹویوٹا وہیکلز کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کمپنی کی حالیہ بریفنگ کے اہم نکات، جو ‘ٹاپ لائن سیکیورٹیز’ کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ علاقائی عدم استحکام پاکستان کی آٹوموبائل انڈسٹری کے لیے سپلائی چین کے نئے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔
آٹو پارٹس کی سپلائی کو خطرہ
پاکستان کی آٹو انڈسٹری مقامی سطح پر گاڑیاں تیار کرنے کے لیے درآمدی CKD کٹس اور پرزوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔
-
آبنائے ہرمز کا خطرہ: عالمی تجارت کے اہم ترین راستے، آبنائے ہرمز کے گرد کشیدگی سے بحری جہازوں کی آمد و رفت خطرے میں پڑ سکتی ہے، جس سے ترسیل میں تاخیر کا امکان ہے۔
-
درآمدی انحصار: پاکستانی کار ساز کمپنیاں اپنے پرزوں کا بڑا حصہ سمندری راستوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ سے درآمد کرتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ شعبہ علاقائی حالات کے سامنے انتہائی غیر محفوظ ہے۔
پیداوار پر ممکنہ اثرات
انڈس موٹر کمپنی کی انتظامیہ کے مطابق، آنے والے ہفتوں میں درج ذیل عوامل پیداواری عمل کو متاثر کر سکتے ہیں:
-
شپنگ میں رکاوٹیں: بحری جہازوں کی آمد میں تاخیر اور بندرگاہوں پر رش۔
-
مال برداری کے اخراجات: فریٹ چارجز میں اضافہ، جس سے گاڑیوں کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔
-
محدود اسٹاک: کار ساز ادارے درآمدی پرزوں کا محدود اسٹاک رکھتے ہیں، اس لیے سپلائی میں ذرا سا تعطل بھی فیکٹری کی بندش کا باعث بن سکتا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان خطرات کے باوجود نئے ماڈلز اور پروڈکٹ اپ ڈیٹس پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے فی الحال لانچنگ کا کوئی حتمی وقت طے نہیں کیا گیا۔
حکومت سے ٹیکسوں میں کمی کی اپیل
آٹو انڈسٹری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹوموبائل سیکٹر پر ٹیکسوں کو معقول بنایا جائے۔
-
سیلز ٹیکس: بعض گاڑیوں کی کیٹیگریز پر اس وقت 25% سیلز ٹیکس عائد ہے، جسے صنعت کے حکام 18% تک لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ سیکٹر میں توازن برقرار رہے۔
-
نئی آٹو پالیسی: مینوفیکچررز نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کے مطابق ایک واضح “آٹو پالیسی 2026-31” متعارف کرانے پر بھی زور دیا ہے۔
مستقبل کی صورتحال
مختصر مدت کی غیر یقینی صورتحال کے باوجود، ماہرین کا خیال ہے کہ اگر معاشی حالات مستحکم رہے، لیزنگ ریٹس کنٹرول میں رہے اور مہنگائی کم ہوئی تو پاکستان میں گاڑیوں کی طلب دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، مشرقِ وسطیٰ کا بحران فی الحال سپلائی چین کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.