کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے TRACS (ٹریفک ریگولیشن اینڈ سائٹیشن سسٹم) کے تحت 1,200 سے زائد AI کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ لیکن میئر مرتضیٰ وہاب کا کے ایم سی ہیڈ آفس سے سندھ اسمبلی تک کا سفر ان تمام قوانین کی نفی کرتا نظر آیا۔
واقعے کی تفصیلات اور اعترافِ جرم
میئر کراچی نے الیکٹرک بائیک پر سفر کے دوران دو بڑی خلاف ورزیاں کیں:
-
بغیر ہیلمٹ سفر: انہوں نے سر پر حفاظتی ہیلمٹ نہیں پہنا تھا، جو کہ سندھ حکومت کے اپنے ای چالان سسٹم کے تحت ایک سنگین جرم ہے۔
-
موٹر سائیکل لائسنس کی عدم موجودگی: میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کے پاس صرف کار کا لائسنس ہے، بائیک کا نہیں۔
میئر کا موقف: “آج میں نے دو غلطیاں کیں۔ میں اب ہیلمٹ بھی خریدوں گا اور بائیک کے لائسنس کے لیے اپلائی بھی کروں گا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بچپن میں سائیکل چلاتے تھے، اس لیے بائیک چلانا مشکل نہیں لگا۔
عوامی ردِعمل اور ای چالان کا تضاد
کراچی کے شہری اس واقعے پر شدید تنقید کر رہے ہیں کیونکہ:
-
بھاری جرمانے: عام موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ نہ پہننے پر 10,000 روپے تک کا ای چالان بھیجا جا رہا ہے۔
-
لائسنس کا فرق: قانونی طور پر کار (Category B) اور موٹر سائیکل (Category A) کے لائسنس الگ ہوتے ہیں۔ ایک عوامی نمائندے کا اس قانون سے لاعلم ہونا حیران کن ہے۔
-
حفاظت کا پیغام: الیکٹرک بائیک کو ‘کھلونے’ کے طور پر نہیں بلکہ ایک موٹر وہیکل کے طور پر ٹریٹ کیا جانا چاہیے، جس کے لیے تمام حفاظتی تدابیر لازمی ہیں۔
پاک ویلز بصیرت: گرین انرجی اور الیکٹرک بائیکس کی تشہیر ایک اچھا قدم ہے، لیکن یہ قانون کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر حکومت چاہتی ہے کہ شہری AI کیمروں کے جرمانوں کا احترام کریں، تو حکمرانوں کو خود مثال بننا ہوگا۔ میئر کا یہ سفر روڈ سیفٹی کا ایک بہترین سبق بن سکتا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی ایک مثال بن گیا۔

تبصرے بند ہیں.