پاکستان کی آنے والی نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی میں الیکٹرک اور دیگر جدید توانائی پر چلنے والی گاڑیوں کے خریداروں کے لیے بڑے ریلیف کی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں اسلام آباد میں مفت رجسٹریشن، سالانہ ٹوکن ٹیکس سے استثنیٰ، اور موٹرویز و نیشنل ہائی ویز پر ٹول فری سفر شامل ہے۔
اس اقدام کا مقصد الیکٹرک گاڑیوں کو خریدنا اور چلانا آسان بنانا ہے، تاکہ پاکستان میں الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور دیگر ماحول دوست سواریوں کے استعمال میں تیزی لائی جا سکے۔
اسلام آباد میں رجسٹریشن فیس کا خاتمہ
پالیسی دستاویز کے مطابق، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیو انرجی وہیکلز (NEVs) پر کوئی رجسٹریشن فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان گاڑیوں کو سالانہ ٹوکن فیس سے بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔ پالیسی میں صوبائی حکومتوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی انتظامیہ کو بھی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ اپنے ہاں ان گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹوکن فیس ختم کر کے ایسا ہی ریلیف فراہم کریں۔
موٹرویز اور ہائی ویز پر ٹول ٹیکس کی معافی
ایک اور بڑی تجویز ٹول ٹیکس کی معافی ہے۔ پالیسی کے مطابق، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) ان گاڑیوں کو موٹرویز اور نیشنل ہائی ویز پر ٹول ٹیکس سے استثنیٰ دے گی۔ اس سے ان صارفین کے ماہانہ اخراجات میں کمی آئے گی جو اکثر شہروں کے درمیان سفر کرتے ہیں یا روزانہ کی بنیاد پر ہائی ویز استعمال کرتے ہیں۔
خریداروں کے لیے یہ کیوں اہمیت رکھتا ہے؟
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی زیادہ قیمت خریداروں کے لیے ہمیشہ ایک تشویش رہی ہے۔ تاہم، چلانے کے کم اخراجات، رجسٹریشن کی بچت، ٹوکن ٹیکس میں رعایت اور ٹول فری سفر وقت کے ساتھ ساتھ ان گاڑیوں کی ملکیت کو پرکشش بنا دیں گے۔ یہ خاص طور پر الیکٹرک بائیکس اور رکشوں کے لیے اہم ہے، کیونکہ پالیسی کا بنیادی مقصد شہروں کے اندر چلنے والی ان چھوٹی سواریوں کو فروغ دینا ہے۔
مجوزہ ریلیف: ایک نظر میں
| مجوزہ ریلیف | اس کا مطلب |
| اسلام آباد میں مفت رجسٹریشن | گاڑی خریدتے وقت ابتدائی خرچ میں کمی |
| ٹوکن ٹیکس سے استثنیٰ | سالانہ اخراجات میں بڑی بچت |
| صوبوں کو رعایت دینے کی ترغیب | پورے پاکستان میں یکساں ریلیف ملنے کا امکان |
| ٹول ٹیکس کی معافی (NHA) | موٹرویز اور ہائی ویز پر سستا سفر |
| بائیکس اور رکشوں پر توجہ | روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے بڑا فائدہ |
سرکاری آمدنی میں معمولی کمی کی توقع
پالیسی میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان رعایتوں سے سرکاری خزانے کو ہونے والا نقصان نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل توجہ ٹو اور تھری وہیلرز پر ہے، جو زیادہ تر شہروں کے اندر چلتے ہیں اور موٹرویز کا استعمال بہت کم کرتے ہیں۔
پاک ویلز کی رائے
انفرادی طور پر یہ رعایتیں شاید چھوٹی لگیں، لیکن مجموعی طور پر یہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے حق میں ایک مضبوط کیس بناتی ہیں۔ خریداروں کے لیے اصل کشش صرف پیٹرول کی بچت نہیں بلکہ ٹوکن ٹیکس، رجسٹریشن اور ٹول ٹیکس جیسے مستقل اخراجات میں کمی ہوگی۔ تاہم، اس کا تمام تر دارومدار عملدرآمد پر ہے۔ اسلام آباد کے لیے ریلیف واضح ہے، لیکن دوسرے صوبوں کے خریداروں کو یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ان کی صوبائی حکومتیں بھی اسی نقشِ قدم پر چلتی ہیں یا نہیں۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.