وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے شیخوپورہ میں موٹروے پولیس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے اس اہم منصوبے کا انکشاف کیا۔ یہ نیا کوریڈور نہ صرف سفر کو تیز تر بنائے گا بلکہ پنجاب کے بڑے صنعتی شہروں کو بھی وفاقی دارالحکومت سے براہِ راست جوڑ دے گا۔
منصوبے کی اہم تفصیلات اور روٹ
حکومت کا منصوبہ ہے کہ موجودہ موٹروے نیٹ ورک کو شمال کی طرف وسعت دی جائے:
-
M-11 (لاہور-سیالکوٹ): اس وقت فعال ہے اور برآمدی شہروں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
-
سمبڑیال تا کھاریاں موٹروے (M-12): اس پر کام جاری ہے۔
-
کھاریاں تا راولپنڈی موٹروے (M-13): یہ لنک مکمل ہونے کے بعد لاہور سے اسلام آباد کا ایک نیا اور مختصر راستہ فراہم کرے گا۔
اس منصوبے کے بڑے فوائد
-
فاصلے میں کمی: لاہور اور اسلام آباد کے درمیان فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر کم ہو جائے گا۔
-
M-2 پر بوجھ میں کمی: اس وقت لاہور-اسلام آباد موٹروے (M-2) پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہے، جو اس نئے راستے سے تقسیم ہو جائے گا۔
-
صنعتی ترقی: سیالکوٹ، گجرات اور گوجرانوالہ جیسے صنعتی مراکز کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی تک رسائی آسان اور تیز ہو جائے گی۔
-
تجارت: مال بردار گاڑیوں کے لیے یہ راستہ زیادہ موزوں اور سستا ثابت ہوگا۔
دیگر اہم موٹروے منصوبے
وزیر مواصلات نے ملک بھر میں جاری دیگر بڑے منصوبوں کا بھی ذکر کیا:
-
M-6 (سکھر-حیدرآباد موٹروے): اس کی تعمیر مئی 2026 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
-
N-25 ایکسپریس وے: کراچی، کوئٹہ اور چمن کو ملانے والا منصوبہ۔
-
سیاحتی روٹ: مانسہرہ-کاغان-ناران موٹروے کو بابوسر ٹاپ سے جوڑ کر شاہراہِ قراقرم کا متبادل راستہ فراہم کرنا۔
-
جدید سہولیات: موٹرویز پر بیریئر فری ٹول پلازہ اور ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز۔
NHA کی آمدنی میں ریکارڈ اضافہ
علیم خان کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کی آمدنی میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 2024 میں 66.8 ارب روپے سے بڑھ کر جون 2025 تک 109 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اضافی رقم نئے روڈ پراجیکٹس میں لگائی جا رہی ہے۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.