پاکستان میں موٹر وے اور ہائی ویز کے نئے ٹول ٹیکس ریٹس جاری

128

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) نے ملک بھر کی مختلف نیشنل ہائی ویز، موٹر ویز اور ایکسپریس ویز پر ٹول ٹیکس کے نرخوں میں ترمیم کر دی ہے۔ ٹول ٹیکس کی ان نئی قیمتوں کا اطلاق 10 جولائی 2026 سے فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ٹول ٹیکس کا یہ نیا ڈھانچہ کار، ویگن، بسوں اور بڑے کمرشل ٹرکوں سمیت تمام گاڑیوں کے لیے تبدیل کیا گیا ہے۔ اس ترمیم میں نیشنل ہائی ویز، کوہاٹ ٹنل، اسلام آباد-مری ڈوئل کیریج وے (مری ایکسپریس وے) اور 6 بڑی موٹر ویز شامل ہیں۔

1. نیشنل ہائی ویز، کوہاٹ ٹنل اور مری ایکسپریس وے کے نئے نرخ

گاڑی کی قسم نیشنل ہائی ویز کوہاٹ ٹنل (N-55) مری ایکسپریس وے (E-75)
کار 100 روپے 250 روپے 300 روپے
ویگن 200 روپے 650 روپے 300 روپے
بس 300 روپے 750 روپے 450 روپے
2 اور 3 ایکسل ٹرک 400 روپے 750 روپے 500 روپے
بڑے آرٹیکولیٹڈ ٹرک 700 روپے 1,150 روپے 1,000 روپے

2. موٹر ویز (M-1, M-3, M-4) کے نئے ٹول ٹیکس ریٹس

گاڑی کی قسم اسلام آباد-پشاور (M-1) لاہور-عبدالحکیم (M-3) پنڈی بھٹیاں-ملتان (M-4)
کار 700 روپے 1,000 روپے 1,350 روپے
ویگن (12 سیٹوں تک) 1,100 روپے 1,500 روپے 1,950 روپے
کوسٹر / منی بس (13-24 سیٹیں) 1,450 روپے 2,200 روپے 2,900 روپے
بس 2,100 روپے 3,150 روپے 4,050 روپے
2 اور 3 ایکسل ٹرک 2,700 روپے 4,050 روپے 5,300 روپے
بڑے آرٹیکولیٹڈ ٹرک 3,350 روپے 5,000 روپے 6,500 روپے

3. موٹر ویز اور ایکسپریس ویز (M-5, M-14, E-35) کے نئے نرخ

گاڑی کی قسم ملتان-سکھر (M-5) ڈی آئی خان-حکلا (M-14) ہزارہ ایکسپریس وے (E-35)
کار 1,500 روپے 800 روپے 400 روپے
ویگن (12 سیٹوں تک) 2,200 روپے 1,400 روپے 550 روپے
کوسٹر / منی بس (13-24 سیٹیں) 3,250 روپے 1,850 روپے 750 روپے
بس 4,600 روپے 2,800 روپے 1,150 روپے
2 اور 3 ایکسل ٹرک 5,950 روپے 3,550 روپے 1,450 روپے
بڑے آرٹیکولیٹڈ ٹرک 7,250 روپے 4,250 روپے 1,750 روپے

شہریوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر اثرات

ٹول ٹیکس میں اس اضافے کے بعد اب کار مالکان کو درج ذیل ادائیگی کرنا ہوگی:

  • M-1 (اسلام آباد-پشاور): 700 روپے

  • M-3 (لاہور-عبدالحکیم): 1,000 روپے

  • M-4 (پنڈی بھٹیاں-ملتان): 1,350 روپے

  • M-5 (ملتان-سکھر): 1,500 روپے

ٹول ٹیکس کے ان نئے نرخوں کی وجہ سے مسافر بسوں اور کمرشل مال بردار ٹرکوں کے سفری اخراجات میں واضح اضافہ ہوگا۔ یہ اضافی اخراجات بالآخر عام شہریوں کی جیب پر ہی اثر ڈالیں گے، کیونکہ ٹرانسپورٹرز کی جانب سے مسافروں کے کرایوں اور گڈز ٹرانسپورٹ (مال برداری) کے چارجز میں اضافے کا امکان ہے۔

اہم نوٹ: این ایچ اے کے اس نوٹیفکیشن میں لاہور-اسلام آباد موٹر وے (M-2) شامل نہیں ہے، کیونکہ اس کا ٹول ٹیکس کا نظام ایک الگ معاہدے کے تحت چلتا ہے۔ شہریوں کو ہداہت کی جاتی ہے کہ سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اپنے M-Tag کا بیلنس لازمی چیک کر لیں تاکہ ٹول پلازہ پر کسی بھی تاخیر یا پریشانی سے بچا جا سکے۔

پاکستان میں ٹول ٹیکس کی معلومات، موٹر وے اپ ڈیٹس اور آٹو مارکیٹ کی ہر بڑی خبر کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel