پاکستان میں ہائیڈروجن سے چلنے والی کار اور بائیک متعارف
پاکستان میں منعقدہ ایک حالیہ نمائش کے دوران NIPPON Energy (NIPPON HEV) نے ہائیڈروجن سے چلنے والی کار اور موٹر سائیکل کا ایک پورا نظام متعارف کروا کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ کار گھر کے عام پانی سے سولر پاور الیکٹرولیسس کے ذریعے ہائیڈروجن تیار کر کے چلتی ہے اور محض 3 کلوگرام کے ہائیڈروجن سلنڈر پر 1500 کلومیٹر کی ناقابلِ یقین رینج فراہم کرتی ہے۔
پچیس لاکھ روپے (2,499,999 روپے) کی قیمت کے ساتھ، نیپون کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پہلے ہی دن کار کی 1,200 اور بائیکس کی 8,000 سے زائد بکنگز حاصل کر لی ہیں۔ لیکن آٹوموٹو کے شوقین ہونے کے ناطے، ہمارے لیے اشتہاری دعووں اور زمینی حقیقت کے فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔
ایک نظر میں تکنیکی خصوصیات (کمپنی کے دعووں کے مطابق)
| فیچر / خصوصیت | تفصیلات (کمپنی کا دعویٰ) |
| انجن / موٹر | 30 کلو واٹ (kW) الیکٹرک موٹر + ہائیڈروجن سلنڈر |
| زیادہ سے زیادہ رفتار | 80 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ |
| عام بیٹری رینج | 300 کلومیٹر تک |
| ہائیڈروجن سلنڈر | 3 کلوگرام کیپیسٹی |
| ہائیڈروجن پر رینج | 1,500 کلومیٹر (500 کلومیٹر فی 1 کلو ہائیڈروجن) |
| مجموعی رینج (کمبائنڈ) | 1,800 کلومیٹر تک |
ہائیڈروجن ری فلنگ کا دعویٰ: نیپون کا کہنا ہے کہ ان کی گھر پر لگانے والی سولر الیکٹرولیسس کٹ ہر منٹ میں 3 لیٹر ہائیڈروجن گیس بناتی ہے، جس کی بدولت ہائی پریشر کا استعمال کرتے ہوئے گھر پر ہی صرف 20 سیکنڈ میں گاڑی کا سلنڈر فل کیا جا سکتا ہے۔
پاک ویلز کی رائے
اگرچہ نمائش میں پیش کیا گیا ابتدائی ماڈل جاپان سے امپورٹ کیا گیا ہے، لیکن کمپنی کے نمائندے حارث خان نے تصدیق کی ہے کہ اگلے مرحلے میں پاکستان کے اندر 85 فیصد مقامی سطح پر پروڈکشن شروع کرنے کے منصوبے پر کام جاری ہے۔ کاغذ کی حد تک دیکھا جائے تو، مہنگائی کے مارے پاکستانیوں کے لیے گھر کے پانی اور دھوپ کی مدد سے 1500 کلومیٹر کا سفر کرنے کا خواب کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔
تاہم، اگر ہم انجینئرنگ کے اصولوں کے تحت ان دعووں کا جائزہ لیں، تو کچھ اہم سوالات سامنے آتے ہیں:
-
تھرمو ڈائنامکس کے قوانین جھوٹ نہیں بولتے: پانی کیمیائی طور پر ایک انتہائی مستحکم مائع ہے۔ پانی کے مالیکیولز کو الیکٹرولیسس کے ذریعے ہائیڈروجن اور آکسیجن میں الگ کرنے کے لیے بہت زیادہ بجلی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد اس ہائیڈروجن کو کمپریس کرنا، اسٹور کرنا اور پھر گاڑی کے اندر دوبارہ بجلی میں بدلنا پڑتا ہے۔ اس پورے عمل کے ہر مرحلے پر انرجی ضائع ہوتی ہے۔ ایک عام الیکٹرک کار (EV) سولر پینل کی بنائی گئی زیادہ تر بجلی کو براہِ راست استعمال کر لیتی ہے، جبکہ ہائیڈروجن کے اس پورے چکر میں اصل بجلی کا صرف 30 سے 40 فیصد حصہ ہی گاڑی کے پہیوں تک پہنچ پاتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، سولر پاور سے ای وی (EV) کو ڈائریکٹ چارج کرنا، ہائیڈروجن بنانے کے مقابلے میں کہیں زیادہ فائدہ مند اور آسان ہے۔
-
ہائی پریشر اور سیفٹی کے خطرات: گاڑی میں 3 کلو ہائیڈروجن اسٹور کرنے کے لیے کاربن فائبر کے بنے انتہائی خاص ٹینکوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کا پریشر 350 سے 700 بار (5,000 سے 10,000+ PSI) ہوتا ہے۔ گھروں میں استعمال ہونے والے عام کمپریسرز اتنا زیادہ پریشر محفوظ طریقے سے پیدا ہی نہیں کر سکتے۔ انتہائی دھماکہ خیز ہائیڈروجن گیس کو گھر پر بنانا، کمپریس کرنا اور اسٹور کرنا شدید ترین حفاظتی خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
-
عالمی معیار سے بالکل الٹ دعویٰ: دنیا کی سب سے جدید ہائیڈروجن کار ٹویوٹا میرائی ہے، جس کی ریسرچ پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ وہ کار بھی 1 کلو ہائیڈروجن میں بمشکل 100 سے 130 کلومیٹر کا سفر طے کرتی ہے۔ ایسے میں نیپون کا 1 کلو ہائیڈروجن میں 500 کلومیٹر چلنے کا دعویٰ جدید آٹوموٹو انجینئرنگ اور طبیعیات (Physics) کے اصولوں کے لحاظ سے بالکل ناممکن نظر آتا ہے۔
آخری بات
پاکستان میں ماحول دوست گاڑیوں کی طرف منتقلی کے لیے یہ بلاشبہ ایک پرجوش اور جرات مندانہ سوچ ہے۔ تاہم، جب تک ان گاڑیوں کا پاکستان کی مقامی سڑکوں پر آزادانہ طور پر تفصیلی ٹیسٹ نہیں کر لیا جاتا اور انہیں سیفٹی سرٹیفیکیشن نہیں مل جاتی، تب تک “پانی سے 1500 کلومیٹر گاڑی چلانے” کے دعووں کو صرف ایک اشتہاری مہم ہی سمجھا جانا چاہیے۔
اگر نیپون کمپنی پاکستان کے زمینی حالات میں اپنے کیے گئے دعووں کا آدھا حصہ بھی حفاظت کے ساتھ سچ ثابت کر دکھاتی ہے، تو یہ واقعی پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا گیم چینجر ہوگا۔ جیسے ہی ہمیں اس گاڑی کا کمرشل ماڈل روڈ ٹیسٹ کے لیے ملے گا، ہم آپ کو سب سے پہلے تفصیلی حقائق سے آگاہ کریں گے!
آٹو انڈسٹری کی ہر سچی اور بڑی اپ ڈیٹ کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.