بڑھتی ہوئی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں کے پیشِ نظر، لاہور ٹریفک پولیس نے موٹر سائیکل، رکشہ اور لوڈر رکشہ سواروں کے لیے عید تک چالان نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد دیہاڑی دار طبقے اور چھوٹے ٹرانسپورٹرز کا معاشی بوجھ کم کرنا ہے، لیکن کیا یہ نرمی سڑکوں پر بدنظمی کا سبب بنے گی؟
معاشی ریلیف کی اہمیت
لاہور میں موٹر سائیکل اور رکشہ عام آدمی کی سواری ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے ان کی یومیہ آمدن کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے میں چالان سے عارضی چھوٹ ہزاروں خاندانوں کے لیے مالی سکون کا باعث بنے گی۔
ٹریفک ڈسپلن اور ای-چالان کا نظام
پچھلے چند سالوں میں لاہور میں ای-چالان اور سخت مانیٹرنگ کی وجہ سے ٹریفک کے بہاؤ اور قوانین کی پاسداری میں واضح بہتری آئی تھی۔ لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا تھا کہ سگنل توڑنے یا غلط سمت میں گاڑی چلانے پر جرمانہ بھرنا پڑے گا۔ اب اس ‘ڈر’ کے ختم ہونے سے درج ذیل خدشات پیدا ہو سکتے ہیں:
-
قوانین کی خلاف ورزی: جرمانے کا خوف نہ ہونے سے ون وے کی خلاف ورزی اور سگنل توڑنے کے واقعات بڑھ سکتے ہیں۔
-
ٹریفک جام: رکشوں اور موٹر سائیکلوں کی بے ہنگم ڈرائیونگ سے شہر کے اہم چوراہوں پر رش بڑھ سکتا ہے۔
-
حفاظتی خدشات: ٹریفک نظم و ضبط میں معمولی سی کمی بھی حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔
شہریوں کے لیے ایک امتحان
حکومت نے تو اپنا حصہ ڈال دیا، لیکن اب گیند شہریوں کے کورٹ میں ہے۔ یہ لاہور کے ڈرائیورز کے لیے ایک امتحان ہے کہ وہ جرمانے کے بغیر بھی کتنی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر عوام نے اس رعایت کا غلط فائدہ اٹھایا، تو عید سے پہلے شہر کا ٹریفک نظام درہم برہم ہو سکتا ہے۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.