حکومت کا پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ

0 119

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ حکومت ’فی الحال‘ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کر رہی۔ خیال رہے کہ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے قرضہ پروگرام کی بحالی کے لیے رکھی گئی اہم شرائط میں سے ایک کے خلاف ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کے مشورے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کو تیار نہیں ہیں۔ انکا مزید کہنا تھا کہ وہ درمیانی راستہ تلاش کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے بات کریں گے، بات چیت مثبت نتیجہ اخذ کرے گی۔ تاہم، وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں مستقبل میں کسی بھی وقت نظر ثانی کی جا سکتی ہے (خاص طور پر تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے مطابق)۔

مفتاح اسماعیل نے کہا «میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہم قیمتیں کبھی نہیں بڑھائیں گے۔ بات یہ ہے کہ ہم آج ان میں اضافہ نہیں کر رہے»

اوگرا کیجانب سے بھیجی گئی سمری

اس سے قبل گزشتہ روز میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ وفاقی حکومت سبسڈی میں کمی کرکے قیمتوں میں اضافے پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 40 روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق، حکومت فی الحال پیٹرول پر  29.60روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل پر 73 روپے فی لیٹر پر کی سبسڈی دے رہی ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے اور ادائیگیوں کے توازن کے مسائل کے باوجود حکومت نے قیمتیں بڑھانے سے انکار کر دیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ معاشی کے بجائے سیاسی ہے۔ اور اس سے ملکی خزانے اور معاشی پر دباؤ مزید بڑھے گا۔

اگر موجودہ حکومت نے جلد قیمتوں میں اضافہ نہ کیا تو صورتحال مزید خراب ہو جائے گی کیونکہ اربوں روپے سبسڈی کی مد میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے اور اسے جلد از جلد سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

پیٹرول کی موجودہ قیمتیں

پیٹرول کی موجودہ قیمت روپے 149.86، ہائی اسپیڈ ڈیزل 144.15 روپے، کیروسین آئل (مٹی کے تی) کی قیمت 125.56 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل (LDO) کی قیمت 118.31 روپے فی لیٹر ہے۔

حکومت کے پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانے کے فیصلے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کمنٹس سیکشن میں اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.