“پمپوں پر قطاریں برداشت نہیں کی جائیں گی!” پنجاب حکومت کے سخت اقدامات کا اعلان
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں وزراء اورنگزیب اور ملک کے ہمراہ ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا، جس میں صوبے میں پیٹرول، ڈیزل اور ایل این جی کی رسد، طلب اور موجودہ ذخائر کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سپلائی چین میں تعطل کے پیش نظر فوری طور پر ایندھن بچاؤ پالیسی (Fuel-Conservation Policy) پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے عوامی پریشانی اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کو روکنے کے لیے درج ذیل ہدایات جاری کیں:
-
ذخیرہ اندوزی پر زیرو ٹولرنس: پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا گیا ہے۔
-
قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد: صوبے میں کہیں بھی سرکاری نرخوں سے زائد پر ایندھن فروخت نہیں ہونے دیا جائے گا۔
-
پمپوں پر قطاروں کا خاتمہ: انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ شہریوں کو پیٹرول پمپوں پر لمبی قطاروں میں انتظار نہ کرنا پڑے۔
-
زراعت کے لیے ترجیح: وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ فصلوں کی کٹائی اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے زرعی مقاصد کے لیے ڈیزل کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔
-
24/7 مانیٹرنگ: تمام ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو سپلائی لائنوں کی مسلسل نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کا کہنا تھا کہ “اس بڑے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کو ثابت قدمی دکھانی ہوگی، ملک کی معاشی سلامتی کے لیے فوری اور مشکل فیصلے ناگزیر ہیں۔”
یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟
بحران میں شدت جمعہ کی رات 11 بجے اس وقت آئی جب وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک پریس کانفرنس میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا، جس سے پیٹرول 321 روپے اور ڈیزل 336 روپے تک پہنچ گیا۔
علی پرویز ملک نے وضاحت کی کہ یہ اضافہ مکمل طور پر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 105 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے، اور خدشہ ہے کہ اگلے ہفتہ وار جائزے میں پیٹرول 380 روپے اور ڈیزل 400 روپے فی لیٹر کی حد عبور کر سکتا ہے۔
اصل مسئلہ: تیل کی سپلائی کا کٹ جانا
پاکستان اپنی ضرورت کا 98 فیصد تیل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے خریدتا ہے، جو بحری راستے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے پہنچتا ہے۔ ایران نے جنگی صورتحال کے باعث یہ راستہ بند کر دیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کا سعودی تیل تک رسائی کا راستہ کٹ چکا ہے۔ حکومت اب متبادل کے طور پر بحیرہ احمر (Red Sea) کے راستے تیل لانے پر غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے سعودی حکومت سے بات چیت جاری ہے۔
وزارت خزانہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے پاس فی الوقت صرف 28 دن کے ذخائر موجود ہیں۔ اگر متبادل راستہ طے نہ ہوا اور آبنائے ہرمز بند رہا، تو ملک میں ایندھن مکمل طور پر ختم ہونے کا شدید خطرہ ہے۔ بحیرہ احمر کا راستہ ایک لائف لائن تو ثابت ہو سکتا ہے، لیکن یہ راستہ طویل ہونے کی وجہ سے بہت زیادہ مہنگا پڑے گا۔
ایندھن کے اس بحران کا واحد پائیدار حل آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا ہے، جو پاکستان کے کنٹرول سے باہر ہے۔ جب تک علاقائی کشیدگی کم نہیں ہوتی، پاکستانی عوام کو ایندھن کی انتہائی بلند قیمتوں (ممکنہ طور پر 400 روپے سے زائد) کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی کی تازہ ترین صورتحال کے لیے پاک ویلز (PakWheels) کو گوگل نیوز پر فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.