Omoda E5 کا یوزر ریویو: کیا یہ BYD Atto 3 سے بہتر ہے؟
پاکستان کی سڑکوں پر اب الیکٹرک گاڑیاں (EVs) دیکھنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں رہی، لیکن Omoda E5 ایک ایسی گاڑی ہے جو اب بھی لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ پاک ویلز کی یوزر ریویو سیریز کی اس قسط میں ہم نے ملاقات کی مصطفیٰ سے، جنہوں نے اپنی پیٹرول پر چلنے والی ٹویوٹا ریز کو خیرباد کہہ کر اس الیکٹرک پاور ہاؤس کا انتخاب کیا۔
2026 میں پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے جہاں سب کو پریشان کیا ہوا ہے، وہیں مصطفیٰ نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے کیوں BYD Atto 3 جیسے بڑے حریف کے مقابلے میں اومودا کو ترجیح دی۔
خریداری کا فیصلہ: پیٹرول پمپ سے آزادی
مصطفیٰ کا مقصد بالکل واضح تھا: پیٹرول کے خرچے سے مکمل چھٹکارا۔ ان کے پاس پہلے سے گھر پر سولر پینلز موجود تھے، اس لیے الیکٹرک گاڑی ان کے لیے بہترین سودا تھا۔
90 لاکھ (9 ملین) روپے کے بجٹ میں ان کے پاس تین بڑے آپشنز تھے: BYD Atto 3، Jaecoo J6 اور Omoda E5۔
مصطفیٰ کہتے ہیں، “جب ہم نے شارٹ لسٹ کیا تو مقابلہ Atto 3 اور اس کا تھا۔ سچ پوچھیں تو لُکس کے معاملے میں کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے، اومودا کہیں زیادہ جارحانہ اور پریمیئم دکھتی ہے۔”
Omoda E5: ایک نظر میں
| فیچر | تفصیلات |
| ماڈل | 2025 |
| قیمت (خریداری کے وقت) | 89.9 لاکھ روپے |
| بیٹری کی صلاحیت | 61 kWh |
| اصلی رینج (شہر میں) | 350 کلومیٹر |
| چارجنگ ٹائم (0-100%) | 6 سے 7 گھنٹے (11kW چارجر کے ساتھ) |
رینج اور چارجنگ کا فرق
Omoda E5 کی BYD Atto 3 پر سب سے بڑی برتری اس کی بیٹری ہے۔ جہاں Atto 3 عام طور پر 50 kWh کی بیٹری دیتی ہے، وہیں اومودا میں 61 kWh کی بڑی بیٹری موجود ہے۔
مصطفیٰ کے مطابق، وہ ایک چارج پر آرام سے 300 سے 350 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر لیتے ہیں۔ چونکہ وہ گھر پر سولر سے چارج کرتے ہیں، اس لیے ان کا خرچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر وہ گرڈ کی بجلی (تقریباً 10 روپے فی یونٹ) بھی استعمال کریں، تب بھی فی کلومیٹر خرچہ 5 روپے سے کم رہتا ہے۔
مشورہ: گاڑی کے ساتھ آنے والے 3kW چارجر سے چارجنگ میں 20 گھنٹے لگتے ہیں۔ مصطفیٰ نے عقلمندی دکھائی اور 1 لاکھ 60 ہزار روپے اضافی لگا کر 11kW کا فاسٹ چارجر لگوایا، جس سے اب گاڑی صرف 6 گھنٹے میں چارج ہو جاتی ہے۔
انٹیریئر: فیوچرسٹک اور آرام دہ
اومودا کا انٹیریئر کسی سپیس شپ سے کم نہیں، جس میں 12.3 انچ کی دو عدد خمیدہ اسکرینز لگی ہیں۔ BYD کے چھوٹے میٹر کے مقابلے میں اومودا کا ڈسپلے کافی بڑا اور واضح ہے۔
-
سونی ساؤنڈ سسٹم: گاڑی میں 8 اسپیکرز والا سونی کا سسٹم لگا ہے۔ کیبن اتنا خاموش ہے کہ آپ میوزک کا بھرپور مزہ لے سکتے ہیں۔
-
وینٹی لیٹڈ سیٹیں: پاکستان کی شدید گرمی میں یہ فیچر کسی نعمت سے کم نہیں جو سیٹوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔
-
کول باکس اور وائرلیس چارجر: اس میں مشروبات ٹھنڈا رکھنے کے لیے کول باکس اور 50 واٹ کا تیز رفتار وائرلیس چارجر بھی موجود ہے۔
حفاظتی فیچرز (ADAS)
گاڑی میں ایڈوانسڈ ڈرائیور اسسٹنس سسٹم موجود ہے، جس میں اڈاپٹیو کروز کنٹرول اور تصادم سے بچاؤ کی وارننگ جیسے فیچرز شامل ہیں۔ تاہم، مصطفیٰ نے ایک چھوٹی سی شکایت کی کہ لاہور یا کراچی کی بے ہنگم ٹریفک میں اس کا آٹو بریکنگ سسٹم کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ ہی ایکٹو ہو جاتا ہے، جو تھوڑا پریشان کن ہو سکتا ہے۔
مینٹیننس اور وارنٹی
اومودا کو پاکستان میں نیشاط گروپ کا نیکس جین آٹو لے کر آیا ہے۔ مصطفیٰ کا کہنا ہے کہ “چونکہ نیشاط گروپ ہی ہیونڈائی کو دیکھ رہا ہے، اس لیے ہمیں یقین ہے کہ اس کے پارٹس اور سروس کا مسئلہ نہیں ہوگا”۔
کمپنی بیٹری پر 8 سال یا 1 لاکھ 60 ہزار کلومیٹر کی وارنٹی دے رہی ہے، جو نئے خریداروں کے لیے بڑے اطمینان کی بات ہے۔
حتمی فیصلہ
4,500 کلومیٹر چلانے کے بعد، مصطفیٰ پیٹرول کے مقابلے میں تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار روپے بچا چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے پاس لمبی مسافت کے لیے ایک پیٹرول گاڑی موجود ہے اور آپ شہر کے اندر استعمال کے لیے ایک اسٹائلش، جدید اور سستی سواری ڈھونڈ رہے ہیں، تو Omoda E5 سے بہتر کوئی انتخاب نہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا اومودا کا اسٹائل اسے BYD سے بہتر بناتا ہے؟ ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں!
آٹوموبائل انڈسٹری کی تازہ ترین خبروں کے لیے — گوگل نیوز پر PakWheels کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.