پاکستان کی نیو انرجی وہیکل پالیسی 2025-30 کے تحت ای وی (EV) چارجنگ انفراسٹرکچر میں بڑے اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس منصوبے میں موٹرویز اور N5 ہائی وے کے مخصوص حصوں پر 40 لیول-3 فاسٹ چارجرز کی تنصیب شامل ہے، جو پالیسی کی منظوری کے چھ ماہ کے اندر مکمل کی جائے گی۔
اس پالیسی میں 2030 تک ملک بھر میں 3,000 پبلک چارجنگ اسٹیشنز کا بڑا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے تاکہ “رینج اینگزائٹی” (بیٹری ختم ہونے کا ڈر) کو ختم کر کے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
پہلے چھ ماہ میں 40 فاسٹ چارجرز کا منصوبہ
ابتدائی قدم کے طور پر، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) پالیسی کی منظوری کے چھ ماہ کے اندر 40 لیول-3 فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کرے گی۔ یہ چارجرز موٹرویز اور N5 ہائی وے پر اوسطاً ہر 120 کلومیٹر کے فاصلے پر نصب کیے جائیں گے، تاکہ بڑے شہروں کے درمیان الیکٹرک گاڑیوں پر سفر کو ممکن بنایا جا سکے۔
2030 تک 3,000 چارجنگ اسٹیشنز
پالیسی کے تحت 2030 تک مرحلہ وار 3,000 اسٹیشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں فاسٹ چارجرز، لیول-2 چارجرز اور دو پہیہ و تین پہیہ گاڑیوں کے لیے بیٹری سویپنگ اسٹیشنز شامل ہوں گے۔
| سال | مجوزہ پبلک چارجنگ اسٹیشنز |
| 2025-26 | 240 |
| 2026-27 | 380 |
| 2027-28 | 550 |
| 2028-29 | 800 |
| 2029-30 | 1,030 |
| کل | 3,000 |
حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک بڑی شاہراہوں پر ہر 50 کلومیٹر کے بعد ایک چارجنگ اسٹیشن دستیاب ہو۔
آئل کمپنیوں کا کلیدی کردار
چارجنگ کی سہولت صرف سرکاری مقامات تک محدود نہیں رہے گی۔ پالیسی کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے لازمی ہوگا کہ وہ ہر صوبے میں اپنے 10 فیصد پٹرول پمپس پر لیول-3 فاسٹ چارجرز نصب کریں۔ اس عمل میں NHA، صوبائی حکومتیں، اور بجلی کے شعبے کے متعلقہ ادارے مل کر کام کریں گے۔
سستا ای وی چارجنگ ٹیرف
پالیسی میں چارجنگ اسٹیشنز کے لیے سستی بجلی فراہم کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان اسٹیشنز کو اسمارٹ میٹرنگ سسٹم سے جوڑا جائے گا تاکہ بجلی کا استعمال کفایتی اور موثر ہو۔ پاور ڈویژن اور ڈسکوز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ اسٹیشنز 24/7 فعال رہیں اور نئے کنکشنز کی درخواست تین ہفتوں کے اندر مکمل کی جائے۔
یہ کیوں اہم ہے؟
پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی کامیابی کا اصل امتحان چارجنگ تک رسائی ہے۔ نئی گاڑیاں خریداروں کو متوجہ تو کر سکتی ہیں، لیکن قابلِ بھروسہ چارجنگ نیٹ ورک کے بغیر لوگ ای وی خریدنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اگر اس منصوبے پر صحیح طرح عملدرآمد ہوا تو یہ شہروں اور بین شہر سفر کرنے والوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
پاک ویلز کی رائے
3,000 چارجنگ اسٹیشنز کا ہدف مشکل ضرور ہے لیکن انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان صرف ٹیکسوں میں کمی یا نئے ماڈلز لانچ کر کے ای وی مارکیٹ نہیں بنا سکتا، خریداروں کو چارجنگ کا اعتماد دینا ہوگا۔ اگر حکومت اور نجی کمپنیاں یہ اہداف پورے کر لیتی ہیں، تو پاکستان کی ای وی مارکیٹ عام صارفین کے لیے واقعی کارآمد بن جائے گی۔
فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.