عارف حبیب لمیٹڈ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، جون 2026 میں پاکستان میں گاڑیوں کے لیے دی جانے والی فنانسنگ (آٹو فنانسنگ) کا حجم تیزی سے بڑھ کر 382 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ یہ پچھلے سال اسی مہینے کے 277 ارب روپے کے مقابلے میں 38 فیصد کا شاندار اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اگر ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو مئی 2026 میں آٹو فنانسنگ کا حجم 369 ارب روپے تھا، جس میں جون کے دوران 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
آٹو لونز میں اضافے کا سلسلہ جاری
گاڑیوں کی فنانسنگ میں حالیہ اضافہ اس بحالی کو مزید آگے بڑھاتا ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے قبل ملکی تاریخ کی بلند ترین شرحِ سود، گاڑیوں کی آسمان کو چھوتی قیمتوں اور عوام کی قوتِ خرید میں کمی کی وجہ سے آٹو لونز (بائیک اور کار لونز) شدید دباؤ کا شکار تھے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سال 2023 اور 2024 کے انتہائی نچلے درجے سے نکلنے کے بعد آٹو فنانسنگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور بقایا قرضوں کا مجموعی حجم اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
جون 2026 میں پاکستان میں اسٹیٹ بینک کی پالیسی ریٹ (شرحِ سود) 11.5 فیصد پر رہی، جو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں کافی کم ہے، اگرچہ اب بھی یہ شرح کئی عام خریداروں کے لیے زیادہ ہی شمار ہوتی ہے۔
شرحِ سود میں کمی سے مانگ میں اضافہ
آٹو لونز میں یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ خریداروں کی ایک بڑی تعداد اب دوبارہ بینکوں سے گاڑی فائنانس کروانے کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ماضی کے مقابلے میں اب ماہانہ قسطیں قدرے آسان اور قابلِ برداشت ہو گئی ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، بینکوں اور کار ساز کمپنیوں نے بھی گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے فکسڈ ریٹ فنانسنگ پلانز، مارک اپ میں کٹوتی اور کم مدت کے لیے آسان قسطوں کے پرکشش پیکیجز متعارف کروائے ہیں تاکہ وہ لوگ بھی گاڑی لے سکیں جو پوری رقم ایک ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔
تاہم، یہاں یہ بات واضح رہے کہ 382 ارب روپے کا یہ اعداد و شمار مجموعی طور پر جاری کیے گئے بقایا قرضوں کا ہے، نہ کہ صرف جون کے مہینے میں جاری ہونے والے نئے قرضوں کا۔
کنزیومر فنانسنگ 1,145 ارب روپے تک پہنچ گئی
رپورٹ کے مطابق، جون کے مہینے میں مجموعی کنزیومر فنانسنگ کا حجم 1,145 ارب روپے (1.145 Trillion) تک پہنچ گیا، جس میں سالانہ بنیادوں پر 25.4 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 3.9 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
کنزیومر فنانسنگ کی تمام کیٹیگریز (جیسے پرسنل لون، ہوم لون اور کریڈٹ کارڈز) میں گاڑیوں کے لیے دیے جانے والے قرضے سب سے آگے اور سرفہرست رہے۔
کار فنانسنگ میں یہ مسلسل اضافہ پاکستانی کار مارکیٹ میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کا عکاس ہے۔ تاہم، گاڑیوں کی قیمتیں، انشورنس کے اخراجات، پٹرول کی قیمتیں اور بھاری ماہانہ قسطیں اب بھی خریداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
آٹو انڈسٹری اور معیشت کی ہر بڑی اپ ڈیٹ کے لیے— گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.