پاکستان میں مارچ 2026 تک آٹو لونز کا حجم 345.34 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ شرحِ سود میں معمولی کمی نے متوسط طبقے کو ایک بار پھر بینکوں کی طرف مائل کیا ہے، لیکن مارکیٹ کے اعداد و شمار ایک مختلف کہانی سنا رہے ہیں۔
مارچ 2026: فروخت کے اعداد و شمار
| کمپنی | مارچ کی کارکردگی | وجہ |
| پاک سوزوکی | 23 فیصد کمی | رمضان، عید کی چھٹیاں اور سپلائی چین کے مسائل |
| ہیونڈائی نشاط | 9 فیصد کمی | سیڈان سیگمنٹ میں موسمی مندی |
| دیگر کمپنیاں | 1 سے 29 فیصد اضافہ | کراس اوور ایس یو ویز (SUVs) کی بڑھتی مانگ |
| مجموعی انڈسٹری | 9 فیصد کمی (ماہانہ) | کام کے ایام میں کمی اور تعطیلات |
قرضوں میں اضافہ اور فروخت میں کمی کی وجوہات:
-
موسمی اثرات: رمضان المبارک اور عید الفطر کی تعطیلات کی وجہ سے بینکوں کی کارروائی اور گاڑیوں کی ڈیلیوری کا عمل سست رہا۔
-
مہنگائی کا بوجھ: 2022 میں جب قرضے عروج پر تھے، تب گاڑیوں کی قیمتیں کم تھیں۔ آج ہم ریکارڈ قرضہ لے کر بھی 20 فیصد کم گاڑیاں خرید پا رہے ہیں، جو کہ روپے کی گرتی ہوئی قدر کا نتیجہ ہے۔
-
الیکٹرک گاڑیوں (EV) کی طرف جھکاؤ: پیٹرول کی قیمتوں سے پریشان خریدار اب اپنا بینک لون الیکٹرک گاڑیوں کی طرف منتقل کر رہے ہیں۔ اگر آپ کا روزانہ کا سفر 40 کلومیٹر سے زیادہ ہے، تو ای وی کا قرضہ پیٹرول کی بچت کے ذریعے اپنی قسط خود ادا کر سکتا ہے۔
پاک ویلز بصیرت: بینک اس وقت نئے صارفین کے لیے جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کے پاس بینک سے لون کی منظوری موجود ہے، تو یہ وقت گاڑی خریدنے کے لیے موزوں ہو سکتا ہے، کیونکہ مینوفیکچرنگ لاگت بڑھنے کی صورت میں قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ رہتا ہے۔
تبصرے بند ہیں.