آٹو پالیسی 2026-31، کیا گاڑیاں واقعی سستی ہوں گی؟
پاک ویلز کی جانب سے ریویو کیے گئے آٹو پالیسی 2026-31 کے مسودے کے مطابق، حکومت تین بڑے ستونوں پر کام کر رہی ہے: چھوٹی گاڑیوں کی نئی کیٹیگری (L6/L7)، گرین ٹیکنالوجی (NEVs) کے لیے مراعات، اور بینک لیزنگ کے قوانین میں نرمی۔
آپ گاڑی کیسے خرید سکیں گے؟ (مجوزہ مراعات)
نئی پالیسی میں خریداروں کے لیے درج ذیل آسانیاں تجویز کی گئی ہیں:
| پالیسی اقدام | خریدار کے لیے فائدہ |
| 7 سالہ آٹو فنانسنگ | 5 سال کے مقابلے میں ماہانہ قسط میں بڑی کمی۔ |
| 15% ڈاؤن پیمنٹ | تنخواہ دار طبقے کے لیے ابتدائی رقم کی ادائیگی آسان۔ |
| 1% سیلز ٹیکس (NEV/L6/L7) | 18 فیصد GST کے مقابلے میں لاکھوں روپے کی بچت۔ |
| ٹیکس چھوٹ (FED/CVT) | گاڑی کی کل قیمت میں نمایاں کمی کا امکان۔ |
| 10 ملین لون کیپ | اب زیادہ بہتر اور جدید ہائبرڈ گاڑیاں بھی بینک سے لی جا سکیں گی۔ |
نیو انرجی وہیکلز (NEVs) کا انقلاب
صرف الیکٹرک کاریں ہی نہیں، بلکہ پلگ-ان ہائبرڈ (PHEV) اور رینج ایکسٹینڈر (REEV) کو بھی 1 فیصد سیلز ٹیکس کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پیٹرول کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان خریدار کم قیمت میں جدید ٹیکنالوجی حاصل کر سکے۔
کیا قیمتیں واقعی کم ہوں گی؟ (حقیقت پسندی)
اگرچہ ٹیکسوں میں کمی سے قیمتیں گرنی چاہئیں، لیکن پاکستان میں اکثر یہ ریلیف کمپنیوں کے مارجن یا ڈالر کی بڑھتی قیمت کی نذر ہو جاتا ہے۔
-
لون کی مدت: 7 سالہ قرض سے قسط تو کم ہوگی، لیکن طویل مدت کی وجہ سے آپ بینک کو سود (Interest) کی مد میں زیادہ رقم ادا کریں گے۔
-
آن منی (Own): اگر سپلائی بہتر نہ ہوئی تو “آن منی” کا جن ان تمام مراعات کو ہضم کر سکتا ہے۔
پاک ویلز بصیرت: اگر آپ چھوٹی سٹی کار یا ای وی (EV) لینے کا سوچ رہے ہیں، تو جولائی 2026 کی پالیسی کے نفاذ کا انتظار کرنا آپ کے لاکھوں روپے بچا سکتا ہے۔ یہ پالیسی پچھلی دہائی کا سب سے زیادہ “خریدار دوست” مسودہ ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار سخت مانیٹرنگ پر ہے تاکہ کمپنیوں کو قیمتیں کم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

تبصرے بند ہیں.