آٹو پالیسی 2026—پلگ-ان ہائبرڈ سستی، روایتی ہائبرڈ مہنگی!

966

پاکستان کی نئی آٹو پالیسی NEV (نیو انرجی وہیکلز) پر فوکس کر رہی ہے۔ اس پالیسی کا سب سے بڑا نشانہ وہ گاڑیاں ہیں جو صرف انجن کی مدد کے لیے چھوٹی بیٹری استعمال کرتی ہیں اور چارج نہیں ہو سکتیں۔

 قیمتوں کا نیا نقشہ: کون جیتے گا اور کون ہارے گا؟

گاڑی کی قسم اسٹیٹس جی ایس ٹی (GST) قیمت پر اثر
پلگ-ان ہائبرڈ (PHEV) منظور شدہ 1% 16% کمی
الیکٹرک (BEV) منظور شدہ 1% بڑی بچت
روایتی ہائبرڈ (HEV) غیر منظور شدہ 18% 5-8% اضافہ
پیٹرول کار غیر منظور شدہ 18% مستحکم/معمولی اضافہ

50 کلومیٹر کا قانون: اب شرط سخت ہے

نئی پالیسی کے تحت صرف وہی پلگ-ان ہائبرڈ 16 فیصد رعایت حاصل کر سکے گی جو صرف بجلی پر کم از کم 50 کلومیٹر کا سفر کر سکے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب کمپنیوں کو بڑی بیٹریاں (کم از کم 15-18 kWh) لگانا ہوں گی، ورنہ ان کی گاڑی پر عام پیٹرول گاڑی جتنا ٹیکس لگے گا۔

 بڑی کمپنیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی

  • چینی برانڈز (فاتح): BYD اور ہیول (Haval) جیسے برانڈز پہلے ہی دنیا بھر میں بہترین PHEVs بنا رہے ہیں۔ ان کی گاڑیاں پاکستان میں اچانک سستی ہو جائیں گی۔

  • کورین برانڈز (مشکل میں): کیا (Kia) اور ہنڈائی (Hyundai) کے پاس اس وقت پاکستان میں ہائی رینج پلگ-ان ماڈلز کی کمی ہے، جس کی وجہ سے وہ ٹیکس رعایت سے محروم رہ سکتے ہیں۔

  • جاپانی برانڈز (سب سے زیادہ خطرہ): ٹویوٹا اور ہونڈا نے زیادہ تر روایتی ہائبرڈ (HEV) پر انحصار کیا ہے۔ اب ان گاڑیوں پر ٹیکس بڑھنے سے ان کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے مزید دور ہو سکتی ہیں۔

 بائیکس کے لیے ‘سولر مومنٹ’

پالیسی میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ جس طرح بجلی مہنگی ہونے پر لوگوں نے سولر پینل لگائے، ویسے ہی پیٹرول 400 روپے سے اوپر جانے پر عوام بڑی تعداد میں الیکٹرک بائیکس کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔ ملت ٹریکٹرز جیسے بڑے نام اب اس میدان میں اتر رہے ہیں تاکہ عوام کو سستی برقی سواری فراہم کی جا سکے۔

پاک ویلز بصیرت: 2026 کی آٹو پالیسی ان گاڑیوں پر “سرجیکل اسٹرائیک” ہے جو صرف نام کی ہائبرڈ ہیں۔ حکومت اب صرف ان گاڑیوں کو سبسڈی دے گی جو واقعی ملک کا تیل کا درآمدی بل کم کر سکیں۔ اگر آپ ٹیکس میں رعایت چاہتے ہیں، تو اب ایسی گاڑی ڈھونڈیں جس میں چارجنگ پلگ موجود ہو۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel