بجٹ 2026-27 سے پہلے آٹو پارٹس پر تین تہوں (Three-tier) پر مشتمل ٹیرف سسٹم لاگو تھا:
| ٹیرف کی شرح (Tariff Rate) | اطلاق (Applied To) |
| 1% | مقامی مینوفیکچرنگ میں استعمال ہونے والا خام مال (Raw Materials) |
| 5% | وہ پرزے جو لوکلائز ہو سکتے ہیں لیکن فی الحال امپورٹ کیے جا رہے ہیں |
| 10% | مقامی صنعت کے لیے تیار امپورٹڈ آٹو پارٹس |
نئے بجٹ کے بعد بھی اس کے پیچھے چھپی منطق سادہ ہے: جو چیز ہم یہاں نہیں بنا سکتے اسے سستا امپورٹ کرنے دیں، اور جو پرزے ہمیں یہاں بنانے چاہئیں ان کی امپورٹ اتنی مہنگی کر دیں کہ مینوفیکچررز مقامی سپلائرز کی طرف جانے پر مجبور ہو جائیں۔
تئوری کی حد تک یہ بہترین لگتا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ فریم ورک پچھلی ایک دہائی سے موجود ہے اور مقامی سطح پر پرزے بنانے کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسافر گاڑیوں میں اوسط لوکلائزیشن اب بھی تقریباً 58% پر رکی ہوئی ہے، جبکہ گاڑی کا اصل مہنگا حصہ—جیسے انجن، ٹرانسمیشن، اور جدید الیکٹرانکس—آج بھی سی کے ڈی (CKD) کٹس کی شکل میں باہر سے ہی آتا ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ انڈسٹری کا دائرہ پھیلا ہے اور اب ملک میں 2، 3 اور 4 وہیلر کیٹیگریز میں 118 سے زائد OEMs اور اسمبلرز موجود ہیں (جو کہ روایتی ‘بگ تھری’ کے دور کے مقابلے میں بڑی ترقی ہے)۔ لیکن اسمبلرز کی تعداد بڑھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم واقعی کاریں مینوفیکچر کر رہے ہیں، ہم صرف پرزے جوڑ رہے ہیں۔
الیکٹرک وہیکلز (EVs) اور ای بائیکس کی کامیابی
یہ بجٹ مقامی طور پر تیار ہونے والی EVs اور رینج ایکسٹینڈڈ ای ویز (REEVs) کے لیے ٹیکس ریلیف کی مدت میں ایک سال کی توسیع کرتا ہے۔ یہی ریلیف الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹرز کو بھی دیا گیا ہے۔
یہ اقدامات نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی 2025-2030 کے اس ہدف کے عین مطابق ہیں جس کے تحت 2030 تک ملک میں 30% گاڑیاں الیکٹرک پر منتقل کرنی ہیں۔ اور دیکھا جائے تو ٹو-وہیلر (ای بائیکس) واحد شعبہ ہے جہاں یہ حکمتِ عملی کام کر رہی ہے۔ مستقل پالیسی کی وجہ سے ای بائیک کی لوکل مینوفیکچرنگ تیزی سے بڑھی ہے، تاہم فور-وہیلر (کاروں) میں ابھی طویل سفر باقی ہے۔
دوسری طرف، بجٹ پریمیم گاڑیوں کے لیے سخت ہے۔ 2 کروڑ روپے یا اس سے زائد کی امپورٹڈ لگژری EVs پر نیا FED لاگو کیا گیا ہے تاکہ امیر خریدار گرین ٹیکنالوجی کے نام پر ٹیکس چوری نہ کر سکیں۔ ساتھ ہی 2,000cc سے بڑے انجن والی پٹرول گاڑیوں پر بھی سخت ٹیکس لگایا گیا ہے۔ یعنی امیروں کی لگژری گاڑیوں سے اکٹھا ہونے والا ٹیکس، عام انڈسٹری کو دیے گئے ریلیف کا بوجھ اٹھائے گا۔
پاپام (PAAPAM) کی سنگین وارننگ
جہاں کاریں جوڑنے والے اسمبلرز (PAMA) اس بجٹ سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں، وہیں لوکل پارٹس بنانے والے مینوفیکچررز (PAAPAM) سخت مایوس ہیں۔ ان کی قیادت کا کہنا ہے کہ پاکستانی وینڈرز کو عالمی مینوفیکچررز کے مقابلے میں 34% اضافی لاگت کا سامنا ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ امپورٹڈ گاڑیوں (CBUs) پر 50 سے 60 فیصد کسٹمز ڈیوٹی ہونی چاہیے اور مقامی پرزوں کو کم از کم 45 فیصد تحفظ ملنا چاہیے، جو کہ اس بجٹ میں نہیں ملا۔
ان کی وارننگ صاف ہے: اگر لوکلائزیشن کے لیے سخت شرائط عائد نہ کی گئیں، تو یہ انڈسٹری کی ترقی نہیں بلکہ اس کا آہستہ آہستہ خاتمہ ہوگا۔ یہ تشویش اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت گاڑیوں کی امپورٹ پر اوسط ٹیرف کو اس سال 10.6% سے کم کر کے 9.5% اور 2030 تک اسے مزید گرا کر 6% تک لانے کا وعدہ کر رکھا ہے۔
پاک ویلز کا حتمی فیصلہ (The Verdict)
بجٹ 2026-27 ایک عجیب تضاد کا شکار ہے: یہ آج تو لوکل انڈسٹری کو تحفظ دے رہا ہے لیکن ساتھ ہی اگلے چند سالوں میں اس تحفظ کو بتدریج ختم کرنے کا عہد بھی کر رہا ہے۔ یہ ٹرانزیشن (تبدیلی) صرف اسی صورت کام کر سکتی ہے جب آج ملنے والا تحفظ کل کی عالمی مسابقت کی بنیاد بنے، لیکن فی الحال بجٹ میں اس کی کوئی تحریری گارنٹی نہیں ہے۔
یہ گارنٹی نئی آٹو پالیسی 2026-31 سے متوقع ہے جو ابھی کابینہ کی منظوری کی منتظر ہے۔ جب تک وہ پالیسی باقاعدہ نافذ نہیں ہوتی، اس وقت تک 285 ارب روپے کے اس ریلیف کو کسی کامیابی کا انعام نہیں، بلکہ ایک بار پھر “حکومتی ایڈوانس پیمنٹ” ہی سمجھا جائے گا۔
لہذا، ہمارے عنوان کا ایماندارانہ جواب یہ ہے: ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ ریلیف تو حقیقی ہے، لیکن کیا یہ پاکستان کو وہ لوکلائزیشن دے پائے گا جس کا وعدہ کیا گیا ہے؟ یہ فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا۔
بجٹ کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں ہونے والے حتمی اتار چڑھاؤ کی تفصیلات کے لیے پاک ویلز بلاگ کو فالو کرتے رہیں۔

تبصرے بند ہیں.