پاکستان میں پیٹرولیم کی روزانہ قیمتوں کا نظام؛ علی پرویز ملک کا اہم اجلاس

48

اسلام آباد — معاشی اصلاحات کی جانب ایک بڑے قدم کے طور پر، وفاقی حکومت پاکستان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کو روزانہ کی بنیاد پر کرنے کے ایک نئے نظام کی تیاری کر رہی ہے۔

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیرِ صدارت ہفتے کے روز ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں تیل کی صنعت کے اہم شراکت داروں کے ساتھ اس نئے نظام کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی)، آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن آف پاکستان (او میپ)، مقامی ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران انڈسٹری کے رہنماؤں نے حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور اسے شعبے کو جدید بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔

شفافیت اور ڈی ریگولیشن کی طرف پیش رفت

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے زور دیا کہ روزانہ قیمتوں کا نیا نظام مارکیٹ کی خامیوں کو دور کرے گا۔

“نئے نظام کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ایک شفاف فارمولے کے ذریعے مارکیٹ کی حقیقی اور فوری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ اس سے ناجائز منافع خوری، استحصال اور غیر معمولی مالی فوائد حاصل کرنے کی گنجائش کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکے گا،” وفاقی وزیر نے کہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اصلاحاتی عمل کا مقصد عوام کو ان سیاسی مصلحتوں اور فیصلوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے محفوظ رکھنا ہے جو ماضی میں دیکھنے کو ملتے رہے ہیں۔

سرکاری بریفنگ کے مطابق، یہ اصلاحات حکومت کی مرحلہ وار ڈی ریگولیشن حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہیں، جو وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر متعارف کرائی جا رہی ہیں تاکہ تیل کے شعبے میں حکومتی مداخلت کو بتدریج کم کیا جا سکے۔

اوگرا نفاذ کے لیے مکمل تیار

اوگرا کے نمائندوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ریگولیٹری ادارہ روزانہ قیمتوں کے نئے نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ اوگرا اس وقت اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کر رہا ہے تاکہ ملک بھر میں پیٹرولیم قیمتوں کی بروقت اور فوری اشاعت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں نئے نظام کی طرف منتقلی کے لیے ضروری عملی امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا، جن میں شامل ہیں:

  • روزانہ بدلتی قیمتوں کے ماڈل کے تحت سپلیائی چین کا انتظام۔

  • او ایم سیز اور ریفائنریز کے لیے ذخائر (انوینٹری) کا انتظام۔

  • مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ریئل ٹائم ڈیٹا کی دستیابی۔

تکنیکی مسائل کے حل کے لیے خصوصی کمیٹی قائم

عملی چیلنجز سے نمٹنے اور اس نظام کو بہتر طریقے سے لاگو کرنے کے لیے، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ کمیٹی تمام تر آپریشنل اور تکنیکی مسائل کو باہمی اتفاقِ رائے سے حل کرے گی۔

وزیرِ پیٹرولیم نے پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو ہدایت کی کہ وہ انڈسٹری کے شراکت داروں کے ساتھ مزید تکنیکی سیشنز منعقد کریں تاکہ معیاری طریقہ کار (SOPs) کو حتمی شکل دی جا سکے۔

اجلاس کے اختتام پر، علی پرویز ملک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت جہاں عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے پوری طرح کاربند ہے، وہاں پاکستان کی پیٹرولیم صنعت کے طویل مدتی استحکام اور بقا کو یقینی بنانے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel