وفاقی حکومت نے نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل (NCMC) کے ذریعے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں ڈیزل کی درآمد کو مرکزی دھارے میں لایا جائے۔ یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور ڈالر کی کمی کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
حکومت نے یہ فیصلہ کیوں کیا؟
-
ڈالر کی بچت: پاکستان کا ایندھن کا درآمدی بل سالانہ 20 سے 22 ارب ڈالر ہے، جس میں ڈیزل کا بڑا حصہ ہے۔ ایک ہی سرکاری ادارے کے ذریعے درآمد کرنے سے ڈالر کے اخراج کو بہتر طور پر مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔
-
مقامی ریفائنریوں کا تحفظ: نجی کمپنیاں اکثر باہر سے سستا ڈیزل منگوا کر مقامی ریفائنریوں (مثلاً PARCO اور اٹک) کا اسٹاک نہیں اٹھاتی تھیں۔ اب پہلے مقامی ڈیزل استعمال ہوگا، پھر درآمدی ڈیزل کی باری آئے گی۔
آپ کے لیے عام سوالات اور ان کے جوابات
| سوال | حقیقت |
| کیا پرائیویٹ پمپس (Shell/Total) پر ڈیزل ملے گا؟ | جی ہاں، وہ پمپس کھلے رہیں گے لیکن وہ اپنا ڈیزل اب مقامی ریفائنریوں یا PSO سے خریدیں گے۔ |
| کیا قیمتیں فوری طور پر بڑھیں گی؟ | نہیں، قیمتیں اب بھی حکومت کے ہفتہ وار یا پندرہ روزہ فارمولے کے تحت طے ہوں گی۔ |
| کیا ڈیزل کی قلت ہو سکتی ہے؟ | فی الحال ذخائر کافی ہیں، لیکن تمام تر بوجھ صرف ایک ادارے (PSO) پر ہونے سے سپلائی چین میں “رسک” بڑھ گیا ہے۔ |
| کیا یہ مستقل پابندی ہے؟ | نہیں، یہ ایک عارضی اقدام ہے جو خطے میں صورتحال بہتر ہونے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ |
پاک ویلز بصیرت: ٹرک مالکان، کسانوں اور بڑی SUV (جیسے فورچیونر یا ریوو) رکھنے والوں کے لیے یہ فیصلہ “سپلائی کی لچک” کو کم کر دیتا ہے۔ اگر ماضی میں کسی ایک کمپنی کے پاس ڈیزل ختم ہوتا تھا تو دوسری کمپنیاں کور کر لیتی تھیں۔ اب پوری قوم کا انحصار PSO کی کارکردگی اور لاجسٹکس پر ہوگا۔
اگر آپ کا تعلق ٹرانسپورٹ یا زراعت سے ہے، تو کٹائی کے سیزن (Harvesting Season) میں سپلائی پر نظر رکھنا ضروری ہوگا کیونکہ طلب بڑھنے پر سنگل سورس سپلائی چین پر دباؤ آ سکتا ہے۔

تبصرے بند ہیں.