پاکستان میں ای-بائیک مارکیٹ کو درپیش بڑے چیلنجز

54

پٹرول سے چلنے والے موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک بائیکس سے بدلنے کی حکومتی کوششوں کو بڑے ریگولیٹری اور صنعتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل میں بیٹری کے کمزور معیار، غیر واضح نگرانی اور مقامی سطح پر پرزے نہ بننا شامل ہیں۔

یہ خدشات ڈاکٹر مہرین بھٹو کی صدارت میں ہونے والے پٹرولیم اور انڈسٹریز کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں اٹھائے گئے۔ قانون سازوں کو بتایا گیا کہ پاکستان میں ابھی تک الیکٹرک موٹر سائیکلوں کے لیے کوئی ایک مخصوص ریگولیٹر (نگران ادارہ) موجود نہیں ہے اور نہ ہی لیتھیم آئن بیٹریوں کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی بنائی گئی ہے۔

بہت سارے محکمے، لیکن کوئی ایک نگران ادارہ نہیں

ڈان (Dawn) کی ایک رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مہرین بھٹو نے ٹریفک اور انڈسٹری کے بکھرے ہوئے ریگولیٹری نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی وزارتیں اور محکمے الیکٹرک موٹر سائیکل انڈسٹری کے مختلف حصوں کی نگرانی کر رہے ہیں، جس سے الجھن پیدا ہو رہی ہے:

  • انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB): مینوفیکچرنگ لائسنس جاری کرتا ہے۔

  • پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA): الیکٹرک بائیکس اور بیٹریوں کی تصدیق (سرٹیفیکیشن) کرتی ہے۔

  • نیشنل انرجی ایفیشنسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی (NEECA): چارجنگ انفراسٹرکچر کو دیکھتی ہے۔

  • صوبائی حکام: سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن اور قوانین کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔

  • کسٹمز اور وزارتِ تجارت: لیتھیم آئن بیٹریوں کی امپورٹ اور اسکریپ (کباڑ) کے نام پر آنے والے پرانے سیلز کو ہینڈل کرتے ہیں۔

ذمہ داریوں کی اس تقسیم کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایک بھی ایسا ادارہ نہیں ہے جو الیکٹرک موٹر سائیکل کی تیاری، رجسٹریشن سے لے کر بیٹری کے ضائع ہونے تک کے پورے لائف سائیکل کی نگرانی کر سکے۔

بیٹری کے معیار پر صارفین کے خدشات

ڈاکٹر بھٹو نے تشویش کا اظہار کیا کہ کچھ مینوفیکچررز بائیکس میں کم معیار کی بیٹریاں لگا رہے ہیں جو دو سے تین سال کے اندر ناقابلِ استعمال ہو سکتی ہیں۔ ایسی بیٹری کو تبدیل کرنے پر خریداروں کو 90,000 روپے تک کا خرچہ آ سکتا ہے، جس سے پٹرول چھوڑ کر الیکٹرک موٹر سائیکل پر شفٹ ہونے کا مالی فائدہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔

الیکٹرک موٹر سائیکل مینوفیکچررز کے نمائندے ڈاکٹر محمد امجد نے کمیٹی کو بتایا کہ EDB کے مینوفیکچرنگ لائسنس میں خاص طور پر لیتھیم آئن بیٹری کے استعمال کی شرط لازمی قرار نہیں دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ کمپنیاں لاگت بچانے کے لیے سستی لیڈ ایسڈ (خشک بیٹریاں) استعمال کر رہی ہیں۔

استعمال شدہ لیتھیم سیلز کی اسمگلنگ اور گرے مارکیٹ

ڈاکٹر محمد امجد نے لیتھیم آئن بیٹریوں پر بھاری امپورٹ ڈیوٹی کو غیر قانونی مارکیٹ کی بڑی وجہ قرار دیا۔

ان کے مطابق، غیر لائسنس یافتہ آپریٹرز اسکریپ کے نام پر امپورٹ ہونے والے لیتھیم سیلز کو دوبارہ اسمبل (Refurbish) کرتے ہیں اور بغیر کسی ٹیسٹنگ یا قانونی نگرانی کے مقامی مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں۔ ملک میں معیاری ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور شکایات کے واضح نظام کی عدم موجودگی کے باعث خریدار ناقص اور غیر محفوظ بیٹری پیک خریدنے پر مجبور ہیں۔

مقامی پیداوار کی کمی

ایک اور مینوفیکچرر، شاہد باجوہ نے کمیٹی کو بتایا کہ انڈسٹری میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں ہے جو بیٹریوں اور الیکٹرک بائیک کے پرزوں کی مقامی سطح پر تیاری کی حوصلہ افزائی کرے۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مینوفیکچررز یا صارفین غیر قانونی بیٹری بنانے والوں کی رپورٹ کہاں درج کروائیں؟ کیونکہ اس وقت کارروائی کے لیے کوئی واضح سرکاری چینل موجود ہی نہیں ہے۔ پاکستان لیتھیم آئن بیٹریوں کے لیے مکمل طور پر امپورٹ پر منحصر ہے، جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت، امپورٹ ڈیوٹی اور سپلائی کی بندش براہِ راست ای-بائیک کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

نئی بیٹری پالیسی کی تیاری جاری

ای ڈی بی (EDB) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد منصور نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک نئی بیٹری پالیسی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس سے اجلاس میں اٹھائے گئے بہت سے خدشات دور ہونے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ شرکاء نے PSQCA پر زور دیا کہ وہ اپنی تکنیکی صلاحیت کو بڑھائے اور لیتھیم بیٹریوں کی جانچ کے لیے مخصوص لیبارٹریز قائم کرے۔

پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے پاکستان میں ای-بائیک کی مارکیٹ یقیناً پھیل رہی ہے، لیکن صرف سبسڈیز یا نئے ماڈلز لانے سے خریداروں کا اعتماد بحال نہیں ہوگا۔ ای-بائیکس کو ایک قابلِ اعتماد سواری بنانے کے لیے بیٹری کے واضح معیار، وارنٹی، ٹیسٹنگ لیبز اور ایک واحد نگران ادارے کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

آٹو انڈسٹری کی ہر بڑی اور تازہ ترین اپ ڈیٹ کے لیے — گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel