پاکستان کی پہلی الیکٹرک گاڑی: آٹو مارکیٹ میں بڑے انقلاب کی دستک

50

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی کہانی اب محض ایک تصور کے بجائے حقیقت میں اسمبلی لائن (پروڈکشن) تک پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔

’بزنس ریکارڈر‘ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، ملک کی پہلی مکمل طور پر مقامی سطح پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑی رواں سال جون یا جولائی تک سڑکوں پر آنے کی توقع ہے، جس کی قیمت 10 لاکھ روپے سے کم ہوگی۔

انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او حماد علی منصور نے بتایا کہ یہ گاڑی لاہور کے ایک پلانٹ میں تیار کی جا رہی ہے اور یہ ایک بار چارج ہونے پر 180 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ‘میڈ ان پاکستان’ گاڑیوں کو بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کرنے کے منصوبے بھی تیار ہیں، جس کے لیے برآمدی مراعات کی مد میں 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

منصور نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ملک بھر میں ای-بائیکس اور ای-رکشہ کو سستا بنانے کے لیے ایک سبسڈی پلان کی بھی نشاندہی کی ہے۔

یہ پیشرفت اچانک سامنے نہیں آئی۔ ‘پاک وہیلز’ (PakWheels) نے پہلے ہی اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا تھا، جس میں پاکستان کی پہلی حکومت کے زیرِ سرپرستی چلنے والی ‘میڈ ان پاکستان’ ای وی کمپنی کے آغاز کی رپورٹ دی گئی تھی اور اسے سستی اور پائیدار سفری سہولیات کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا گیا تھا۔ اس سابقہ رپورٹ میں کم آپریٹنگ اخراجات، ایندھن کی درآمدات میں کمی، روزگار کے مواقع اور پاکستان کے ای وی ایکو سسٹم میں بہتری کے وسیع تر امکانات پر روشنی ڈالی گئی تھی۔

اب ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ اس منصوبے کا ابتدائی مراحل سے نکل کر عملی طور پر مارکیٹ میں لانچ ہونا ہے۔

یہ بات اہمیت رکھتی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آئیڈیا اب صرف چمکدار بروشرز اور پُر امید پینل ڈسکشنز تک محدود نہیں رہا۔ اگر قیمت 10 لاکھ روپے سے کم رہتی ہے اور برآمدی و سبسڈی سپورٹ حقیقت بن جاتی ہے، تو یہ پاکستان میں سستی الیکٹرک کاروں، مقامی مینوفیکچرنگ اور ماحول دوست سواریوں کی طرف منتقلی کے سفر میں ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel