رو-رو (RoRo) ٹیکنالوجی کیا ہے اور یہ آٹو انڈسٹری کے لیے کیوں اہم ہے؟

27

ماضی میں پاکستان میں امپورٹ کی جانے والی گاڑیاں (چاہے وہ جاپانی ہوں یا چائنیز) لوہے کے بڑے کنٹینرز میں بند کر کے یا بلک کارگو کے طور پر لائی جاتی تھیں، جنہیں بندرگاہ پر بھاری کرینوں کے ذریعے ایک ایک کر کے اتارا جاتا تھا۔ یہ طریقہ کار انتہائی سست، مہنگا اور گاڑیوں پر اسکریچ یا باڈی ڈیمیج کا خطرہ بڑھاتا تھا۔

اس کے برعکس، ایک رو-رو (Roll-on/Roll-off) جہاز بنیادی طور پر سمندر میں تیرتا ہوا ایک دیوقامت ملٹی اسٹوری پارکنگ گیراج ہوتا ہے۔ اس کے لاجسٹک فوائد درج ذیل ہیں:

  • براہِ راست ڈرائیو آف (Direct Offloading): ان جہازوں میں بلٹ ان ریمپ (ڈھلوان سڑکیں) لگی ہوتی ہیں۔ گاڑیوں کو بندرگاہ پر اتارنے کے لیے کسی کرین کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ ڈرائیورز گاڑیوں کو خود چلا کر (Roll-off) سیکنڈوں میں جہاز سے باہر سڑک پر لے آتے ہیں۔

  • کرین پر انحصار کا خاتمہ: بندرگاہ کی ہیوی کرینوں اور ہیومن ہینڈلنگ کی ضرورت نہ ہونے سے آف لوڈنگ کا وقت دنوں کے بجائے گھنٹوں میں بدل جاتا ہے۔

  • مالیاتی بچت (Cost Efficiency): پورٹ پر جہاز کے کھڑے رہنے کا وقت (Dwell Time) اور ہینڈلنگ چارجز نہ ہونے کے برابر رہ جاتے ہیں، جس سے لاجسٹک لاگت میں بھاری کمی آتی ہے۔ یہ بچت مستقبل میں لوکل ڈسٹری بیوٹرز عام صارفین تک منتقل کر سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے سمندری امور جنید انوار چوہدری کے مطابق، ‘ایم وی گرانڈے شنگھائی’ کی آمد پاکستان کے پورٹ انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور کراچی پورٹ کو بین الاقوامی شپنگ اسٹینڈرڈز کے برابر لانے کی طرف ایک اسٹریٹجک قدم ہے۔

 اس تاریخی کھیپ میں کون سی گاڑیاں شامل ہیں؟

اگرچہ وزارتِ سمندری امور نے آفیشل طور پر برانڈز اور ماڈلز کا بریک ڈاؤن شیئر نہیں کیا، لیکن آٹو انڈسٹری کے معتبر ذرائع کے مطابق، اس 2,000+ گاڑیوں کے بڑے بیڑے میں زیادہ تر تعداد چائنیز الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کی ہے۔

پاکستان میں حال ہی میں داخل ہونے والے بڑے برانڈز جیسے کہ BYD (جو میگا کانگلومیریٹ/حبکو کے اشتراک سے کام کر رہا ہے) اور چانگان کی پریمیم ای وی لائن اپ Deepal مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے لیے جارحانہ انداز میں کام کر رہے ہیں۔ مقامی سطح پر ان گاڑیوں کی بکنگز اور ڈلیوریز کے پریشر کو پورا کرنے کے لیے اس طرح کی بڑے پیمانے پر ہائی والیم شپمنٹس ناگزیر تھیں۔

 پاک ویلز کا حتمی فیصلہ (The PakWheels Take)

صرف اور صرف الیکٹرک گاڑیوں سے لادے ہوئے پہلے رو-رو جہاز کی کراچی آمد پاکستان کے لیے ایک ڈبل ون (دوہری فتح) ہے۔ ایک طرف، یہ ثابت کرتا ہے کہ کراچی پورٹ اب دنیا کی جدید ترین اور ہائی والیم آٹو موٹیو لاجسٹکس کو سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ دوسری طرف، یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان میں فیول گاڑیوں سے الیکٹرک وہیکلز کی طرف منتقلی کا عمل اب چند مہنگی لگژری گاڑیوں سے نکل کر بڑے کمرشل والیم میں تبدیل ہو رہا ہے۔

تاہم، جہاں اتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیاں ملکی سڑکوں پر آنے کے لیے تیار ہیں، وہیں یہ ہماری موٹر ویز اور ہائی ویز پر موجود چارجنگ انفراسٹرکچر کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ثابت ہوگا۔ مارکیٹ کو اتنے بڑے ای وی فلیٹ کو سنبھالنے اور سپورٹ کرنے کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے جال کو فوری طور پر پھیلانا ہوگا۔

پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کی نئی قیمتوں، موٹر وے پر لگنے والے فاسٹ ڈی سی چارجرز اور امپورٹ پالیسی کی لائیو خبروں کے لیے پاک ویلز بلاگ مانیٹر کرتے رہیں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel