حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں تو ایک بڑا دھماکہ کیا ہے، لیکن پیٹرول استعمال کرنے والے کروڑوں پاکستانیوں کے لیے یہ خوشی ادھوری ہے۔
قیمتوں کا تقابلی جائزہ (11 اپریل 2026 سے لاگو):
| ایندھن کی قسم | نئی قیمت (روپے) | پرانی قیمت (روپے) | کل کمی (روپے) |
| پیٹرول (MS) | 366.41 | 378.41 | -12 |
| ڈیزل (HSD) | 385.35 | 520.35 | -135 |
ڈیزل سستا ہونے کے اثرات:
ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے کی کمی ایک غیر معمولی قدم ہے۔ اس کے اثرات براہِ راست معیشت پر پڑنے چاہئیں:
-
فریٹ چارجز میں کمی: ٹویوٹا سمیت تمام بڑی کار ساز کمپنیوں نے حال ہی میں فریٹ چارجز بڑھائے تھے۔ چونکہ گاڑیاں لانے والے ٹرک ڈیزل پر چلتے ہیں، اس لیے اب ان چارجز میں فوری کمی ہونی چاہیے۔
-
مہنگائی میں کمی: کھیتوں میں چلنے والے ٹریکٹروں سے لے کر شاہراہوں پر دوڑتے بڑے ٹریلرز تک، ڈیزل ہر چیز کی پیداواری لاگت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اب روزمرہ اشیاء کی قیمتیں نیچے آنا لازمی ہے۔
پیٹرول میں 12 روپے کی کمی: مذاق یا ریلیف؟
پاکستان میں 2 کروڑ سے زائد موٹر سائیکل مالکان کے لیے 12 روپے کی کمی کسی ریلیف سے کم نہیں ہے۔ ایک عام موٹر سائیکل کی 5 لیٹر کی ٹینکی بھروانے پر صرف 60 روپے کی بچت ہوگی، جو آج کل کے دور میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ متوسط طبقہ جو مہینوں سے 400 روپے کے قریب پیٹرول خرید رہا ہے، اسے کم از کم 50 روپے کی کمی کی توقع تھی۔
ہائی اوکٹین (HOBC) کا معاملہ:
ایک بار پھر ہائی اوکٹین استعمال کرنے والے صارفین کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ جدید انجن والی گاڑیوں کے مالکان مجبوراً مہنگا ایندھن خرید رہے ہیں تاکہ ان کے انجن محفوظ رہیں۔ اب یہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی منڈی کے مطابق ہائی اوکٹین کے نئے ریٹس کا فوری اعلان کریں۔
پاک ویلز کا فیصلہ: ڈیزل کے ذریعے معیشت کو ایک بڑا سہارا دیا گیا ہے، لیکن پیٹرول استعمال کرنے والے عام شہری کے ساتھ ایک بار پھر زیادتی ہوئی ہے۔ اب وقت ہے کہ ٹرانسپورٹرز کرایوں میں کمی کریں اور حکومت یہ واضح کرے کہ عام آدمی کے لیے ریلیف اتنا کم کیوں ہے؟

تبصرے بند ہیں.