کیا اب پاکستان میں یورو-V پیٹرول ملے گا؟ حکومت کا بڑا ریلیف

27

پاکستانی ریفائنریاں (مثلاً PRL، Attock اور Cnergyico) دہائیوں پرانی ٹیکنالوجی پر چل رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ زیادہ مقدار میں ‘فرنس آئل’ تو بنا لیتی ہیں لیکن جدید انجنوں کے لیے ضروری یورو-V معیار کا پیٹرول اور ڈیژل بنانے میں انہیں مشکل پیش آتی ہے۔

  ٹیکس چھوٹ اور ‘اسٹیبلٹی کلاز’ کا مطلب کیا ہے؟

پچھلے کچھ عرصے سے مشینوں کی درآمد پر نئے ٹیکسوں کی وجہ سے یہ اپ گریڈیشن پراجیکٹس رک گئے تھے۔ اب حکومت نے دو بڑے فیصلے کیے ہیں:

  1. سیلز ٹیکس کا خاتمہ: ریفائنری اپ گریڈ کرنے کے لیے منگوائی جانے والی بھاری مشینری پر اب سیلز ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔

  2. اسٹیبلٹی کلاز (Stability Clause): یہ ایک قانونی ضمانت ہے کہ پراجیکٹ کے دوران ٹیکس قوانین کو دوبارہ تبدیل نہیں کیا جائے گا، تاکہ سرمایہ کار بلا خوف و خطر 6 ارب ڈالر خرچ کر سکیں۔

 آپ کی گاڑی پر اس کے 3 بڑے اثرات

ایک عام ڈرائیور کے لیے یہ خبر کیوں اہم ہے؟

  1. انجن کی لمبی عمر: یورو-V ایندھن میں سلفر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، جس سے انجن میں ‘کاربن ڈپازٹس’ کم بنتے ہیں اور اسپارک پلگ زیادہ عرصہ چلتے ہیں۔

  2. مہنگے پرزوں کی بچت: گندا ایندھن آپ کی گاڑی کے کیٹلیٹک کنورٹر (Catalytic Converter) کو خراب کر دیتا ہے جسے تبدیل کرنا لاکھوں کا کام ہے۔ صاف ایندھن سے یہ پرزہ محفوظ رہے گا۔

  3. نوکنگ (Knocking) سے نجات: ٹربو انجن والی گاڑیاں (جیسے سوک، سپورٹیج یا اوشان) کم معیار کے پیٹرول پر ‘نوکنگ’ کرتی ہیں۔ ریفائنری اپ گریڈ ہونے سے ہائی اوکٹین جیسا معیار عام پیٹرول میں بھی ملے گا۔

پاک ویلز بصیرت: ریفائنری کو اپ گریڈ کرنا ایک طویل عمل ہے جس میں 3 سے 4 سال لگ سکتے ہیں، لیکن ٹیکس کی رکاوٹ دور ہونا اس سمت میں پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔ اگر یہ پراجیکٹس وقت پر مکمل ہوتے ہیں، تو پاکستان نہ صرف بہتر ایندھن بنائے گا بلکہ اسے باہر سے مہنگا پیٹرول منگوانے کی ضرورت بھی کم پڑے گی۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel