وزیرِ اعظم شہباز شریف کے حالیہ بیانات اور آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے نئے معاہدوں نے پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ 9 مئی کو ہونے والے 15 روپے کے اضافے کے بعد اب پیٹرول پہلے ہی 414.78 روپے کی تاریخی سطح پر ہے۔
آئی ایم ایف کا “ہدف” اور قیمتوں میں اضافے کی وجہ
آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ حکومت مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی (PDL) کو مزید بڑھائے:
-
موجودہ لیوی: پیٹرول پر اس وقت ریکارڈ 117.41 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے۔
-
نیا ہدف: آئی ایم ایف تمام ایندھنوں پر یکساں 160 روپے فی لیٹر لیوی کا مطالبہ کر رہا ہے۔
-
عالمی عوامل: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور بحیرہ عرب میں سپلائی کے مسائل نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو مستحکم نہیں ہونے دیا، جس کا سارا بوجھ اب پاکستانی عوام پر منتقل کیا جائے گا۔
آپ پر کیا اثر پڑے گا؟
پیٹرول اور ڈیژل کا مہنگا ہونا صرف گاڑیوں تک محدود نہیں رہتا:
-
ٹرانسپورٹ اور کرایوں میں اضافہ: ڈیژل کی قیمت بڑھنے سے مال بردار گاڑیوں کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے۔
-
ہائبرڈ اور ای-بائیکس کی طلب: لوگ اب بڑی انجن والی گاڑیوں کے بجائے چھوٹی ہائبرڈ کاروں اور الیکٹرک بائیکس کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
-
ٹیوننگ اور مینٹیننس: پیٹرول کی بچت کے لیے اپنی گاڑی کے ایئر فلٹر، سپارک پلگ اور ٹائروں کے پریشر کو چیک رکھیں۔
-
قبل از وقت فلنگ: اگر آپ کی ٹینک خالی ہے، تو 15 مئی کے ریویو سے پہلے پیٹرول ڈلوانا عقلمندی ہو سکتی ہے کیونکہ 430 روپے فی لیٹر کا خدشہ حقیقت بن سکتا ہے۔
پاک ویلز بصیرت: پاکستانی ڈرائیور اس وقت “آگ اور کھائی” کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک طرف آئی ایم ایف پروگرام کی بقا ہے تو دوسری طرف عام آدمی کی زندگی دشوار ہو رہی ہے۔ ہم صرف یہی امید کر سکتے ہیں کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہو، ورنہ آنے والے دن مزید مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔

تبصرے بند ہیں.