وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے تصدیق کی ہے کہ پیٹرول سے لدے تین بحری جہاز آج (پیر) پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ یہ قدم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر اٹھایا گیا ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کو بلا تعطل برقرار رکھا جا سکے۔
اہم نکات اور حکومتی حکمتِ عملی:
-
سپلائی میں استحکام: ان جہازوں کی آمد سے پیٹرول پمپوں پر ایندھن کی دستیابی بہتر ہوگی اور مصنوعی قلت کا خطرہ ٹل جائے گا۔
-
عالمی قیمتوں کا دباؤ: حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر علاقائی تنازعہ بڑھتا ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل ایک سو بیس ڈالر فی بیرل تک جا سکتا ہے، جس سے پاکستان کا درآمدی بل چھ سو ملین ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔
-
ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی: وفاقی اور صوبائی حکام نے پمپوں پر پیٹرول چھپانے والوں کے خلاف سخت مانیٹرنگ اور قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
گاڑیوں کے مالکان کے لیے پیغام:
ان شپمنٹس کی آمد سے فی الحال سپلائی کا بحران ختم ہو جائے گا، لیکن مستقبل میں قیمتوں کا دارومدار عالمی مارکیٹ پر رہے گا۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر کان نہ دھریں کیونکہ حکومت سپلائی چین کی چوبیس گھنٹے نگرانی کر رہی ہے۔
آنے والے دنوں میں توانائی کی بچت کے حوالے سے مزید حکومتی اقدامات متوقع ہیں تاکہ بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔

تبصرے بند ہیں.