پمپ مالکان کی وارننگ، کیا پاکستان میں پیٹرول کا بحران سر اٹھا رہا ہے؟

51

پاکستان میں پیٹرول پمپ مالکان کی تنظیم نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ بعض آئل مارکیٹنگ کمپنیاں پیٹرول کی سپلائی روک رہی ہیں۔ آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا ہے کہ ٹینکرز کو لوڈنگ کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے اور آرڈرز منسوخ کیے جا رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال کے حقائق:

  • اوگرا (OGRA) کا موقف: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، ملک میں اٹھائیس دن کا پیٹرول اور ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہے۔

  • آبنائے ہرمز کا مسئلہ: اطلاعات کے مطابق پاکستان کے تیل کے دو بڑے جہاز آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے سپلائی چین دباؤ کا شکار ہے۔

  • متبادل راستے: حکومت سعودی عرب سے تیل منگوانے کے لیے متبادل بحری راستوں (بحیرہ احمر) پر غور کر رہی ہے تاکہ ہرمز کے تنازع سے بچا جا سکے۔

  • قیمتوں میں اضافہ: یاد رہے کہ یکم مارچ دو ہزار چھبیس سے پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے اور ڈیزل میں پانچ روپے سولہ پیسے کا اضافہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔

شہریوں کے لیے مشورہ

فی الحال سرکاری طور پر قلت کی تصدیق نہیں کی گئی، لیکن پمپ مالکان کی وارننگ کے بعد شہروں میں “پینک بائینگ” (گھبراہٹ میں خریداری) کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ صرف ضرورت کے مطابق ایندھن بھروائیں تاکہ مارکیٹ پر بوجھ نہ پڑے۔

آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم ہیں کہ کیا حکومت سپلائی بحال کروانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel