کراچی میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبد السمیع خان نے اعلان کیا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو 27 مارچ سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کر دیے جائیں گے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ان کا موجودہ مارجن کم ہو کر صرف 2.68 فیصد رہ گیا ہے، جس میں کاروبار چلانا ناممکن ہے۔
ڈیلرز کے مطالبات اور خدشات:
-
منافع میں اضافہ: ڈیلرز کا مطالبہ ہے کہ ان کا فی لیٹر منافع 8 روپے سے بڑھا کر 25 روپے کیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات پورے ہو سکیں۔
-
قیمتوں میں اضافہ: ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی حالات برقرار رہے تو پیٹرول کی قیمت میں 50 سے 60 روپے فی لیٹر تک کا مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
-
ایرانی پیٹرول کی اسمگلنگ: ڈیلرز نے ایرانی ڈیزل اور پیٹرول کی اسمگلنگ پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، جو قانونی کاروبار کرنے والوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
-
سپلائی کے مسائل: پریس کانفرنس میں تیل کمپنیوں کی جانب سے سپلائی میں تاخیر اور کوٹے کے مسائل پر بھی بات کی گئی۔
شہریوں کے لیے ممکنہ مشکلات:
اگر یہ ہڑتال ہوتی ہے تو ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور روزانہ سفر کرنے والوں کے لیے بدترین صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسی ہڑتالوں کی وجہ سے عوام کو میلوں لمبی قطاروں اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
حکومت کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا، تاہم توقع ہے کہ ہڑتال کی تاریخ سے پہلے مذاکرات کا آغاز کر دیا جائے گا۔

تبصرے بند ہیں.