پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں (EV) کے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا جا رہا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں 3,000 چارجنگ اسٹیشنز نصب کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی پی (APP) کے مطابق، اس منصوبے کا اعلان نیشنل انرجی ایفیشینسی اینڈ کنزرویشن اتھارٹی اور ملک گروپ آف کمپنیز کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اجلاس میں ملک گروپ کے سی ای او ملک خدا بخش اور NEECA کے منیجنگ ڈائریکٹر ہمایوں خان نے اس اسٹریٹجک شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا۔
NEECA کے منیجنگ ڈائریکٹر ہمایوں خان نے منصوبے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ اگر نجی شعبہ فعال طور پر حصہ لے تو اس نیٹ ورک کو 6,000 اسٹیشنز تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
عملدرآمد میں حائل رکاوٹیں اور چیلنجز
اس بڑے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کچھ اہم چیلنجز بھی درپیش ہیں، جن میں شامل ہیں:
-
بجلی کے نئے کنکشنز کے حصول میں تاخیر۔
-
علیحدہ میٹروں کی تنصیب کے مراحل۔
-
پاور اتھارٹیز کی جانب سے این او سیز (NOCs) کے حصول میں وقت لگنا۔
حکام نے زور دیا ہے کہ عالمی سطح پر تصدیق شدہ چارجرز کا استعمال کیا جائے اور منظوری کے عمل کو تیز بنایا جائے تاکہ منصوبہ وقت پر مکمل ہو سکے۔
ماہرین کی رائے اور مستقبل کا منظرنامہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کو عام کرنے کے لیے ایک مضبوط چارجنگ نیٹ ورک ناگزیر ہے تاکہ خریداروں کی “رینج اینزائٹی” (راستے میں چارج ختم ہونے کا ڈر) کو ختم کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ پاکستان کی “نیو انرجی وہیکل پالیسی” کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد ایندھن پر انحصار کم کرنا اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔
خلاصہ
پاکستان کا ای وی چارجنگ روڈ میپ بلاشبہ متاثر کن ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار حکومتی اداروں کی جانب سے فوری منظوریوں، بروقت انفراسٹرکچر کی فراہمی اور نجی شعبے کے تعاون پر ہے۔ اگر یہ 3,000 اسٹیشنز کامیابی سے نصب ہو جاتے ہیں، تو یہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے انقلاب کی جانب ایک بڑا سنگِ میل ثابت ہوگا۔

تبصرے بند ہیں.