پاکستان پوسٹ کا بڑا فیصلہ؛ تمام ملازمین کا پٹرول کوٹہ صرف 30 لیٹر مقرر

32

پاکستان پوسٹ نے ملک بھر میں ڈاکیاؤں اور ڈیلیوری ایجنٹس کے ماہانہ پٹرول الاؤنس میں بڑی کمی کرتے ہوئے تمام ملازمین کے لیے یکساں طور پر 30 لیٹر ماہانہ کی حد مقرر کر دی ہے۔

اس نئی تعلیمی پالیسی سے پہلے الاؤنس کا نظام کیٹیگری اور شہر کے لحاظ سے مختلف تھا، جہاں ملازمین کو ان کے کام اور پوسٹنگ کی جگہ کے مطابق پٹرول دیا جاتا تھا۔ اس اچانک کٹوتی سے بڑے شہروں میں کام کرنے والے ڈیلیوری عملے کے پٹرول الاؤنس میں 50 فیصد تک کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔

پٹرول کی نئی یکساں حد

پچھلے نظام کے تحت، ڈاکیاؤں کو ماہانہ 35 لیٹر پٹرول ملتا تھا، جبکہ بڑے شہروں میں کام کرنے والے ڈیلیوری ایجنٹس کو 60 لیٹر اور چھوٹے شہروں کے ملازمین کو 50 لیٹر ماہانہ الاؤنس دیا جاتا تھا۔

اب نئے قانون کے مطابق، ملک بھر کے تمام ڈاکیاؤں اور ڈیلیوری ملازمین کو ان کے عہدے یا شہر کا لحاظ کیے بغیر ہر مہینے زیادہ سے زیادہ صرف 30 لیٹر پٹرول دیا جائے گا۔

پٹرول الاؤنس میں کمی کی تفصیلات:

ڈیلیوری عملے کی کیٹیگری سابقہ الاؤنس نیا الاؤنس کل کٹوتی
ڈاکیا  35 لیٹر 30 لیٹر 5 لیٹر
بڑے شہروں کے ڈیلیوری ایجنٹس 60 لیٹر 30 لیٹر 30 لیٹر (50% کمی)
چھوٹے شہروں کے ڈیلیوری ایجنٹس 50 لیٹر 30 لیٹر 20 لیٹر

یاد رہے کہ پٹرول الاؤنس کی یہ سابقہ حد 17 نومبر 2023 سے نافذ العمل تھی۔

بقایاجات کی ادائیگی کا حکم

الاؤنس میں کمی کے ساتھ ساتھ، ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ نے تمام پوسٹ ماسٹرز جنرل کو ہدایت جاری کی ہے کہ مالی سال 27-2026 کے فنڈز دستیاب ہوتے ہی ملازمین کے پٹرول کے پرانے بقایاجات اور کلیمز کو پہلی ترجیح پر فوری کلیئر کیا جائے۔

پٹرول کی یہ نئی حد پاکستان پوسٹ کے تمام حلقوں پر لاگو ہوگی جن میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، پشاور، ملتان، حیدرآباد، کوئٹہ اور مظفرآباد شامل ہیں۔

پٹرول الاؤنس میں اس کمی سے ڈیلیوری عملے پر مالی دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر بڑے شہروں میں طویل فاصلہ طے کرنے والے ملازمین شدید متاثر ہوں گے جن کا ماہانہ پٹرول کا کوٹہ آدھا رہ گیا ہے۔

آٹو انڈسٹری اور پاکستان کی ہر بڑی اور تازہ ترین اپ ڈیٹ کے لیے گوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel