پاکستان میں تیل کے نئے جہازوں کی آمد، ایندھن کی سپلائی بحال

23

حکومتِ پاکستان نے ایندھن کی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے خدشات کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد تیز کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 1 لاکھ 76 ہزار میٹرک ٹن سے زائد ایندھن لے کر چار بحری جہاز پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔

تیل کی کھیپ اور سپلائی کی تفصیلات

  • حالیہ آمد: وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق، پیر کے روز تین اہم شپمنٹس پاکستان پہنچنے کی توقع تھی۔

  • مارچ کے لیے انتظامات: حکومت نے مارچ کے مہینے کے لیے خام تیل کے چار بڑے کارگو ترتیب دیے ہیں:

    • سعودی عرب: ایک جہاز (تقریباً 70,000 ٹن)۔

    • متحدہ عرب امارات (فجیرہ): ایک جہاز (تقریباً 70,000 ٹن)۔

    • امریکہ: دو اضافی کارگو۔

  • تسلی بخش ذخائر: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے تصدیق کی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش ہیں اور سپلائی چین مکمل طور پر فعال ہے۔

درآمدی لاگت میں اضافے کا خدشہ

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے بڑھنے سے پاکستان کے امپورٹ بل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  • اضافی بوجھ: حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو پاکستان کا ماہانہ آئل امپورٹ بل 60 کروڑ ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔

  • موجودہ قیمتیں: اس وقت پاکستان اسٹیٹ آئل کے مطابق پیٹرول کی قیمت 321.17 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزیل کی قیمت 335.86 روپے فی لیٹر ہے۔

حکومتی حکمتِ عملی

حکومت نے سپلائی برقرار رکھنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:

  1. متبادل راستے: سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے متبادل تجارتی راستوں پر غور۔

  2. ذخیرہ اندوزی پر نظر: صوبائی حکام کے ساتھ مل کر مصنوعی قلت اور ‘پینک بائینگ’ (گھبراہٹ میں خریداری) کو روکنے کے لیے کوآرڈینیشن۔

  3. مانیٹرنگ: ریفائنریوں کی کارکردگی اور درآمدی معاہدوں کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی۔

فوری اپ ڈیٹس حاصل کریں — گوگل نیوز پر PakWheels کو فالو کریں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel