پاکستان کا آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے استعمال پر غور
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر، پاکستان مبینہ طور پر سعودی عرب س بحیرہ احمر (Red Sea) کے راستے خام تیل کی فراہمی کے لیے باضابطہ درخواست کرنے پر غور کر رہا ہے۔
‘دی نیوز’ کی رپورٹ کے مطابق، پیٹرولیم ڈویژن کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ 10 سے 12 دن سے زیادہ برقرار رہتی ہے تو اس ہنگامی منصوبے (Contingency Plan) پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
ایندھن کے 28 روزہ ذخائر
خلیجی ممالک سے توانائی کی درآمدات پر شدید انحصار کی وجہ سے پاکستان موجودہ بحران میں انتہائی کمزور پوزیشن پر ہے۔ پاکستان قطر سے ایل این جی، کویت سے ڈیزل اور متحدہ عرب امارات و سعودی عرب سے خام تیل منگواتا ہے، اور یہ تمام تر ترسیل آبنائے ہرمز کے راستے ہوتی ہے۔
-
موجودہ صورتحال: پاکستان کے لیے خام تیل لے جانے والے دو بحری جہاز، بشمول پی این ایس سی کا ‘ایم ٹی کراچی’، آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ تیسرے جہاز کی روانگی کے امکانات کم ہیں۔
-
ذخائر کی صورتحال: اتوار کو اسلام آباد میں ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد حکام نے تصدیق کی کہ پاکستان کے پاس پیٹرول اور ڈیزل کا 28 روزہ ذخیرہ موجود ہے۔ تاہم، اگر جنگی حالات جاری رہے تو سپلائی لائن متاثر ہو سکتی ہے۔
-
مہنگی خریداری کا خطرہ: سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں پاکستان کو اوپن مارکیٹ سے مہنگی پیٹرولیم مصنوعات خریدنی پڑ سکتی ہیں، جبکہ سنگاپور سے ڈیزل کی درآمد پر بھاری کرایہ اور انشورنس اخراجات بھی برداشت کرنے ہوں گے۔
سعودی عرب کا متبادل راستہ (بحیرہ احمر)
طویل مدتی رکاوٹ کی صورت میں پاکستان سعودی عرب سے بحیرہ احمر کے ذریعے تیل کی فراہمی کی درخواست کرے گا۔ سعودی عرب آبنائے ہرمز کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ایسٹ ویسٹ کروڈ آئل پائپ لائن (جسے پیٹرولائن کہا جاتا ہے) کے ذریعے تیل فراہم کر سکتا ہے۔
یہ پائپ لائن مشرقی آئل فیلڈز سے خام تیل براہِ راست بحیرہ احمر کی بندرگاہوں تک پہنچاتی ہے، جہاں سے یہ چین، جاپان اور بھارت جیسے بڑے خریداروں کو بھیجا جاتا ہے۔ اس فہرست میں شامل ہونے سے پاکستان کی ریفائنریز اپنا کام جاری رکھ سکیں گی۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ قطر سے آنے والی ایل این جی کی سپلائی اب بھی خطرے میں رہے گی کیونکہ سعودی عرب ایل این جی کا بڑا برآمد کنندہ نہیں ہے۔
ممکنہ معاشی اثرات
پاکستان کی اپنی خام تیل کی پیداوار تقریباً 70,000 بیرل روزانہ ہے، جبکہ مقامی ریفائنریز کی طلب پوری کرنے کے لیے 300,000 بیرل روزانہ درکار ہیں۔ پاکستان اپنی پیٹرول کی ضرورت کا 70 فیصد درآمد کرتا ہے۔
آبنائے ہرمز کی طویل بندش کے نتیجے میں:
-
پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوگا۔
-
ملک بھر میں گیس کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
-
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھے گا اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آئے گا۔
-
مہنگائی کی نئی لہر معیشت کو متاثر کرے گی۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال اور آٹو سیکٹر سے متعلق اپ ڈیٹس کے لیے پاک ویلز (PakWheels) کو گوگل نیوز پر فالو کریں۔
تبصرے بند ہیں.