امپورٹڈ گاڑیوں کا گراف زمین پر—مقامی انڈسٹری کے لیے بڑی خوشخبری

79

سالوں سے کمرشل امپورٹرز بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بنائی گئی سہولیات (بگیج، گفٹ، اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیماز) کا سہارا لے کر ہزاروں گاڑیاں ٹیکس چوری کر کے امپورٹ کر رہے تھے۔ حکومت کی جانب سے ان لُوپ ہولز (Loopholes) کو سختی سے بند کرنے کے بعد اپریل میں صرف 120 گاڑیاں بگیج، 19 گفٹ اور صرف 9 گاڑیاں ٹی آر اسکیم کے تحت پاکستان آئیں۔

 مقامی پارٹس مینوفیکچررز (PAAPAM) کیوں خوش ہیں؟

مقامی مینوفیکچررز کے مطابق، امپورٹڈ گاڑیوں کے بے لگام سیلاب کی وجہ سے ملکی آٹو انڈسٹری کو سالانہ 60 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا:

  • زیرو لوکلائزیشن: جاپان سے آنے والی ویٹز (Vitz) یا میرا (Mira) میں پاکستان کا بنا ہوا ایک نٹ بولٹ یا سیٹ کور بھی استعمال نہیں ہوتا۔

  • مقامی پرزوں کی کھپت: پاکستان میں اسمبل ہونے والی ہر کار میں اوسطاً 15 لاکھ روپے کے مقامی پرزے استعمال ہوتے ہیں، جس سے ملکی معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔

  • روزگار کا تحفظ: مسابقت کے نام پر سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی امپورٹ سے لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) میں ہزاروں مقامی نوکریاں خطرے میں پڑ چکی تھیں۔

 مارکیٹ پر اثرات: کس کا فائدہ اور کس کا نقصان؟

اسٹیک ہولڈر گروپ فوری اثر لانگ ٹرم آؤٹ لک
JDM خریدار سپلائی میں شدید کمی، پرانی امپورٹڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ۔ مقامی اسمبل شدہ گاڑیوں یا نئی آٹو پالیسی (2026-31) کا انتظار کرنا ہوگا۔
مقامی وینڈرز لوکل کار کمپنیوں کی طرف سے آرڈرز میں اضافہ۔ صنعتی بحالی اور روزگار میں استحکام۔
پرانی گاڑیوں کے ڈیلرز شورومز پر نئی انوینٹری کا قحط۔ بزنس ماڈل کو مقامی گاڑیوں کی خرید و فروخت پر منتقل کرنا پڑے گا۔

 کار خریدنے والوں کے لیے پاک ویلز کا مشورہ

اگر آپ ان حالات میں گاڑی خریدنا چاہتے ہیں، تو مارکیٹ کو یوں سمجھیں:

  1. امپورٹڈ گاڑی خریدتے وقت ہوشیار رہیں: مارکیٹ میں پرانی امپورٹڈ گاڑیاں ہی اب دوبارہ فروخت ہو رہی ہیں۔ خریدنے سے پہلے آکشن شیٹ (Auction Sheet) اور ہائبرڈ بیٹری کی ہیلتھ لازمی چیک کریں۔

  2. پالیسی پر نظر رکھیں: حکومت آئی ایم ایف (IMF) کی سفارشات کے مطابق آٹو پالیسی 2026-31 کے تحت کمرشل امپورٹ کو باقاعدہ قانونی شکل دینے پر غور کر رہی ہے، لیکن ان پر ڈیوٹیز زیادہ ہونے کا امکان ہے۔

پاک ویلز بصیرت: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بچانے اور مقامی انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے امپورٹ پر کنٹرول ضروری ہے۔ لیکن سکے کا دوسرا رخ یہ ہے کہ پاکستانی صارفین بھی انٹرنیشنل معیار کے سیفٹی فیچرز (ایئربیگز، اسٹیبلٹی کنٹرول) اور بہتر کوالٹی کے حقدار ہیں۔ اگر مقامی کمپنیوں کو امپورٹڈ گاڑیوں کے مقابلے سے آزاد کر دیا گیا ہے، تو اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیمتوں کو کم کریں اور کوالٹی کو بہتر بنائیں۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel