پاکستان کی آٹو مارکیٹ ترقی کر رہی ہے، لیکن جاپانی برانڈز کا شیئر کم ہو رہا ہے
اپ لائن سیکورٹیز (Topline Securities) کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں اس سال بھی ترقی کا تسلسل برقرار رہنے کی امید ہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 30 جون 2026 تک ملک میں گاڑیوں کی مجموعی فروخت 2,97,000 یونٹس تک پہنچ جائے گی۔
اس تخمینے میں پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے ماتحت آنے والی کمپنیاں، اس کے علاوہ فروخت ہونے والی دیگر گاڑیاں اور باہر سے امپورٹ کی جانے والی استعمال شدہ (Used) گاڑیاں بھی شامل ہیں، جو پاکستانی آٹو مارکیٹ کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں۔
جاپانی برانڈز کی گرفت کمزور ہونے لگی
ٹویوٹا (Toyota)، ہونڈا (Honda) اور سوزوکی (Suzuki) اب بھی پاکستان کی آٹو مارکیٹ کے بڑے نام ہیں، لیکن مارکیٹ پر ان کا قبضہ اب پہلے جیسا نہیں رہا۔
-
رپورٹ کے مطابق، اس سال ان تینوں جاپانی کمپنیوں کا مارکیٹ شیئر (مارکیٹ میں حصہ) کم ہو کر تقریباً 56 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
-
اس کے برعکس، سال 2018 میں جب پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت عروج پر تھی، ان جاپانی برانڈز کا مارکیٹ شیئر 80 فیصد تک تھا۔
نئے برانڈز بدل رہے ہیں خریداروں کی پسند
جاپانی گاڑیوں کی فروخت میں یہ کمی ظاہر کرتی ہے کہ مارکیٹ میں آنے والے نئے کار برانڈز نے اب مضبوط پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ اب خریداروں کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ آپشنز موجود ہیں، خاص طور پر کراس اوور (Crossovers)، ایس یو وی (SUVs)، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی صورت میں۔
یہ صورتحال پرانے برانڈز کے لیے چیلنج بن رہی ہے۔ اگرچہ برانڈ پر بھروسہ اور ری سیل ویلیو (دوبارہ فروخت کی قیمت) اب بھی اہمیت رکھتی ہے، لیکن اب یہ گاڑی خریدنے کی واحد وجہ نہیں رہیں۔
اگلے سال فروخت میں مزید اضافے کی توقع
ٹاپ لائن سیکورٹیز کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگلے سال گاڑیوں کی مجموعی فروخت 3,26,000 یونٹس تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ تقریباً 2018 کی سطح کے برابر ہوگی۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی کار مارکیٹ دوبارہ ترقی تو کر رہی ہے، لیکن اب یہ پہلے جیسی مارکیٹ نہیں رہی۔ نئے برانڈز تیزی سے اپنی جگہ بنا رہے ہیں اور خریداروں کی ترجیحات بھی بدل رہی ہیں۔
خریداروں کے لیے بڑھتے ہوئے آپشنز
نئے برانڈز مارکیٹ میں جدید ڈیزائن اور بہتر فیچرز مناسب قیمتوں پر متعارف کروا رہے ہیں۔ تاہم، ری سیل ویلیو، اسپیئر پارٹس کی دستیابی، وارنٹی اور ڈیلرشپ نیٹ ورک جیسے عوامل آج بھی اہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے برانڈز پر آہستہ آہستہ بھروسہ بڑھنے کے باوجود، بہت سے خریداروں کے لیے ٹویوٹا، ہونڈا اور سوزوکی اب بھی محفوظ ترین انتخاب سمجھے جاتے ہیں۔
آٹو انڈسٹری کی مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں۔

تبصرے بند ہیں.