پاکستان کی موٹرسائیکل مارکیٹ: عالمی درجہ بندی اور معاشی حقیقت

33

مغربی ممالک کی مارکیٹوں میں موٹرسائیکل کو عام طور پر تفریح، ویک اینڈ رائیڈز یا ذاتی شوق سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں کہانی بالکل مختلف ہے۔ یہاں کروڑوں خاندانوں کے لیے موٹرسائیکل کوئی لائف اسٹائل پروڈکٹ یا شوق نہیں ہے، بلکہ یہ کام کاج، اسکول، کالج، بازار اور ہسپتال پہنچنے کا سب سے سستا اور واحد ذریعہ ہے۔

عالمی سطح پر ٹو-ویولر ڈیٹا کے مطابق، پاکستان دنیا کی سب سے بڑی موٹرسائیکل مارکیٹوں میں شامل ہے، جہاں اس وقت اندازاً 1 کروڑ 75 لاکھ موٹرسائیکلز موجود ہیں۔ ‘ورلڈ پاپولیشن ریویو’ کے ڈیٹا کے مطابق، اس تعداد کے ساتھ پاکستان دنیا بھر میں بھارت، انڈونیشیا، چین، ویتنام اور تھائی لینڈ کے بعد چھٹے نمبر پر آتا ہے۔

لیکن اصل کہانی صرف بائیکس کی تعداد نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ موٹرسائیکل کس طرح ہمارے گھریلو نظام، پیٹرول کی قیمتوں، کاروں کی پہنچ سے دوری اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

فی کس اعداد و شمار کی حقیقت

پہلی نظر میں پاکستان میں موٹرسائیکل کی اوسط زیادہ نظر نہیں آتی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے مطابق، 2023 کی مردم شماری میں ملک کی آبادی 241.49 ملین (تقریباً 24 کروڑ) تھی۔ اگر 17.5 ملین موٹرسائیکلوں کو اس آبادی پر تقسیم کیا جائے، تو ہر 1,000 افراد کے لیے تقریباً 72 موٹرسائیکلز بنتی ہیں۔

یہ تعداد ویتنام یا تھائی لینڈ جیسے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ تاہم، یہ اعداد و شمار پاکستان کی اصل سفری حقیقت کو ظاہر نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایک موٹرسائیکل صرف ایک فرد کے استعمال میں نہیں ہوتی، بلکہ ایک ہی بائیک کو ایک ہی دن میں گھر کا سربراہ، بیٹا، طالب علم اور ڈیلیوری بوائے باری باری استعمال کرتے ہیں۔

گھروں کا سروے: اصل کہانی یہاں چھپی ہے

گیلپ پاکستان ڈیجیٹل اینالیٹکس کے مطابق، تقریباً دو دہائیاں پہلے پاکستان میں صرف ہر 10 میں سے 1 گھرانے کے پاس موٹرسائیکل تھی۔ لیکن PSLM/HIES سروے ڈیٹا کے مطابق، 2019 تک یہ شرح بڑھ کر ہر 2 میں سے 1 گھرانے (50%) تک پہنچ چکی ہے۔

یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ پاکستان میں بائیک اب ایک انفرادی سواری نہیں بلکہ پورے خاندان کی سفری لائف لائن بن چکی ہے۔ جہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام کمزور یا غیر تسلی بخش ہے، وہاں بائیک ہی خاندان کو فیکٹریوں، اسکولوں اور ہسپتالوں تک پہنچاتی ہے۔

گاڑیوں کے مقابلے میں بائیکس کی ریکارڈ فروخت

موٹرسائیکل کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی فروخت کاروں کے مقابلے میں کتنی زیادہ ہے۔

PAMA ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے گیلپ پاکستان نے بتایا کہ 2007 سے مارچ 2025 کے دوران پاکستان میں 2 کروڑ 4 لاکھ سے زائد موٹرسائیکلز فروخت ہوئیں، جبکہ اس کے مقابلے میں صرف 26 لاکھ کاریں فروخت ہوئیں۔ یہ بائیک اور کار کی فروخت کا 7.85:1 کا اوسط تناسب بنتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، اس عرصے میں فروخت ہونے والی ہر 1 کار کے مقابلے میں تقریباً 8 موٹرسائیکلز مارکیٹ میں آئیں۔

یہ فرق واضح معاشی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ کاریں اپنی بھاری قیمتوں، ٹیکسز، مہنگے پارٹس اور پیٹرول کے اخراجات کی وجہ سے عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، جبکہ 70cc اور 125cc جیسے کمیوٹر ماڈلز روزمرہ کے سفر کے لیے واحد سستا اور حقیقت پسندانہ آپشن ہیں۔ پاک ویلز کی رپورٹ کے مطابق، سال 2026 کے آغاز میں بھی یہ رجحان برقرار ہے، جہاں صرف جنوری 2026 میں ہی 181,790 ٹو-ویولرز اور تھری-ویولرز فروخت ہوئے۔

عالمی مارکیٹ میں پاکستان کا موازنہ

ملک  اندازاً موٹرسائیکلوں کی تعداد مارکیٹ کا بنیادی رجحان
بھارت 221 ملین (22 کروڑ 10 لاکھ) پبلک کمیوٹ اور دیہی سفری مارکیٹ
انڈونیشیا 112 ملین (11 کروڑ 20 لاکھ) شہروں اور قصبوں میں اسکوٹرز کا بھاری استعمال
چین 85 ملین (8 کروڑ 50 لاکھ) بڑا ٹو-ویولر بیس، برقی (EV) بائیکس کی طرف تیزی سے منتقلی
ویتنام 58 ملین (5 کروڑ 80 لاکھ) روزمرہ کے سفر کے لیے بائیکس پر سب سے زیادہ انحصار
تھائی لینڈ 21.6 ملین (2 کروڑ 16 لاکھ) شہروں میں اسکوٹرز اور بائیکس کا وسیع نیٹ ورک
پاکستان 17.5 ملین (1 کروڑ 75 لاکھ) گھریلو ضرورت اور کم لاگت کا روزمرہ کا سفر

ماخذ: ورلڈ پاپولیشن ریویو (موٹرسائیکل کاؤنٹ ڈیٹا)

پاکستان کی صورتحال اس لیے منفرد ہے کیونکہ یہاں بائیک پر انحصار کسی فیشن یا شوق کی وجہ سے نہیں بلکہ سراسر معاشی مجبوری ہے۔ انڈونیشیا یا تھائی لینڈ میں اسکوٹر کلچر اور تنگ گلیوں کی وجہ سے بائیکس مقبول ہیں، جبکہ پاکستان میں مہنگائی، پیٹرول کی قیمتیں اور کاروں کا مہنگا ہونا بائیک مارکیٹ کو چلاتا ہے۔

سڑکوں کی صورتحال اور حکومتی پالیسی کی ضرورت

موٹرسائیکلوں پر یہ حد سے زیادہ انحصار جہاں عوام کو سستا سفر فراہم کرتا ہے، وہاں کئی چیلنجز بھی پیدا کرتا ہے۔ ہماری سڑکیں اب بھی کاروں، بسوں اور ٹرکوں کے حساب سے ڈیزائن کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے بائیک سواروں کو روزانہ درج ذیل مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے:

  • بڑی گاڑیوں کے درمیان غیر محفوظ ڈرائیونگ۔

  • کمرشل علاقوں میں موٹرسائیکل پارکنگ کی شدید کمی۔

  • ہیلمٹ اور سیفٹی قوانین پر کمزور عملدرآمد۔

  • الیکٹرک بائیکس کے انفراسٹرکچر اور چارجنگ کی سست رفتار۔

حکومت کو اب موٹرسائیکل کو ایک سائیڈ ایشو سمجھنے کے بجائے ٹرانسپورٹیشن پالیسی کا بنیادی حصہ بنانا ہوگا۔ سڑکوں کا محفوظ ڈیزائن، مخصوص پارکنگ ایریاز، ای-بائیکس  کے لیے آسان پالیسیاں اور ہیلمٹ کا سخت نفاذ لاکھوں جانیں بچا سکتا ہے۔

پاک ویلز کی رائے

پاکستان دنیا کی بڑی بائیک مارکیٹس میں سے ایک ہے، لیکن اس کی اصل طاقت ملک کے گھرانوں میں ہے۔ سال 2026 میں بھی یہ انحصار واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ پاما (PAMA) کے اعداد و شمار کے مطابق، ہونڈا، سوزوکی اور یونائیٹڈ جیسے بڑے مینوفیکچررز کی فروخت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

جب تک کاریں سستی نہیں ہوتیں اور پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر نہیں ہوتا، پاکستان کی عوام دو پہیوں پر ہی سفر کرنے پر مجبور رہے گی اور موٹرسائیکل ملکی معیشت اور ٹرانسپورٹ کا سب سے بڑا پہیہ رہے گی۔

گاڑیوں اور بائیکس کی دنیا کی تمام تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیےگوگل نیوز پر پاک ویلز کو فالو کریں۔

۔

Google App Store App Store

تبصرے بند ہیں.

Join WhatsApp Channel